سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 550 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 550

550 تحریک کی جائے گی کہ وہ اس سکیم کے تحت اپنی زمین کے آٹھ دس ایکٹر وقف کریں۔اس زمین پر اس سکیم کے واقفین زندگی اپنا مکان بنائیں گے اور باغ لگائیں کے۔اس طرح انہیں سلسلہ بھی مدد دے گا اور وہ خود بھی کمائی کر سکیں گے اور ان کا گزارہ عمدگی سے چل سکے گا۔وہ لوگوں کو تعلیم دیں گے اور واعظ اور مبلغ بن کر کام کریں گے۔(۲) بالکل ابتداء میں وقف جدید کی تحریک میں اپنے آپ کو پیش کرنے والوں کی تعداد بہت تھوڑی تھی۔اس پر حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا مجھے افسوس ہے کہ جلسہ سالانہ سے پہلے تو بعض نوجوانوں کی درخواستیں آتی رہیں کہ ہم اپنے آپ کو اس سکیم کے ماتحت وقف کرتے ہیں لیکن جب میں نے وقف کی شرائط بیان کیں تو پھر ان میں سے کسی نے بھی نہیں کہا۔کہ ہم اپنے آپ کو وقف کرتے ہیں۔پس میں جماعت کے دوستوں کو ایک بار پھر اس وقف کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ہماری جماعت کو یاد رکھنا چاہئیے کہ اگر وہ ترقی کرنا چاہتی ہے تو اس کو اس قسم کے وقف جاری کرنے پڑینگے اور چاروں طرف رشد و اصلاح کا جال پھیلا نا پڑے گا۔(۳) حضور کے اس ارشاد کے بعد اس تحریک میں شرکت کے لئے بہت سے احباب نے اپنے آپ کو پیش کرنا شروع کر دیا، اور دو ماہ کے اندر ربوہ کے علاوہ پشاور، ملتان، بہاولپور، خیر پور اور حیدرآباد ڈویژن کی جماعتوں کی طرف سے اس سکیم کے لئے واقفین بھجوائے گئے۔اور دو ماہ کے اندران واقفین کی تعداد ۲۴۵ تک پہنچ گئی۔اور بنگال میں بھی اس تحریک کی طرف توجہ پیدا ہونی شروع ہوئی۔حضور نے ارشاد فرمایا کہ ان کے کام کو چیک کرنے کے لئے انسپکٹر مقرر کئے جائیں۔ربوہ میں مقیم انسپکٹر کے علاوہ کراچی میں بھی انسپکٹر مقرر کیا جائے جو نواب شاہ تک کے علاقے کے معلمين وقف جدید کے کاموں کا جائزہ لے اور اس کے بعد ایک انسپکٹر صوبہ سرحد سے لیا جا سکتا ہے جو مردان ، نوشہرہ ، ایبٹ آباد اور راولپنڈی کے علاقوں کا کام سنبھال سکتا ہے۔ان دو ماہ میں سالانہ چندے کے وعدے ستر ہزار کے ہو چکے تھے۔لیکن کام کے پھیلاؤ کے لحاظ سے مزید مالی قربانی کی ضرورت تھی۔(۴) اس نئی تنظیم کے کام کو سنبھالنے اور ترقی دینے کے لئے حضور نے ایک تنظیمی ڈھانچہ قائم