سلسلہ احمدیہ — Page 549
549 آبادیاں قائم کریں اور طریق آبادی کا یہ ہوگا کہ وہ حقیقی طور پر تو نہیں ہاں معنوی طور پر ربوہ اور قادیان کی محبت اپنے دلوں سے نکال دیں اور باہر جا کر نئے ربوے اور نئے قادیان بسائیں۔ابھی اس ملک میں کئی علاقے ایسے ہیں، جہاں میلوں میل تک کوئی بڑا قصبہ نہیں۔وہ جا کر ایسی جگہ بیٹھ جائیں اور حسب ہدایت وہاں لوگوں کو تعلیم دیں۔لوگوں کو قرآنِ کریم اور احادیث پڑھائیں۔اور اپنے شاگرد تیار کریں جو آگے اور جگہوں پر پھیل جائیں۔اس طرح سارے ملک میں وہ زمانہ دوبارہ آ جائے گا جو پرانے صوفیاء کے زمانے میں تھا۔“ اس کے بعد حضور نے بعد کے زمانے میں حضرت سید احمد صاحب بریلوی صاحب کا ذکر فرمایا جنہوں نے اپنے شاگردوں کو ہندوستان کے مختلف علاقوں میں بھجوایا تھا۔ان میں سے مولا نا محمد قاسم صاحب نانوتوی نے دیوبند کا مدرسہ قائم فرمایا تھا۔اور فرمایا کہ اسی طرح حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث نے بھی اپنے وقت میں بڑا کام کیا تھا۔اور یہ بزرگان اپنے اپنے زمانہ کے لئے اسوہ حسنہ تھے۔(1) حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ابھی اس نئی تحریک کے چند بنیادی خدو خال بیان فرمائے تھے اور تفصیلات ابھی جماعت کے سامنے نہیں آئی تھیں۔لیکن بہت سے احباب نے اپنے آپ کو اس نئے وقف کے لئے پیش کر دیا۔حضور نے ان دوستوں کو ارشاد فرمایا کہ میں جلسہ سالانہ کے موقع پر اس طرز کے وقف کی تفصیلات بیان کروں گا ، اگر ان کو سن کر تم میں ہمت پیدا ہوئی تو پھر تم اپنے آپ کو پیش کرنا۔جلسہ سالانہ کے موقع پر حضور نے ۲۷ دسمبر کی تقریر کے آخر پر اس سکیم کی کچھ مزید تفصیلات بیان فرمائیں۔حضور نے فرمایا کہ اس سکیم کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان کے ایک کونے سے دوسرے کونے درکار ہوں گے۔لیکن معلمین کا حال بچھا دیا جائے اور اس کے لئے ہزاروں مع ابتداء میں دس معلمین سے کام شروع کیا جائے گا۔ان معلمین کو مرکز کی طرف سے گزارہ کے لئے کچھ الاؤنس دیا جائے گا مگر یہ معلمین اپنے علاقوں میں رہ کر کام بھی کریں گے۔کسی کو دوکان کھول کر دی جائے گی ، یا جہاں پر ضرورت ہو وہاں پر ان کو عطاری کی دوکان کھلوا دی جائے گی یا یہ معلمین اپنی جگہ پر مدرسہ کھولیں گے جو ابتداء میں پرائمری تک ہوگا۔حضور نے فرمایا کہ بڑے زمینداروں کو