سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 551 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 551

551 فرمایا۔اور مجلس وقف جدید کا قیام عمل میں آیا۔۔مکرم منیر احمد صاحب باہری نے اس کے سیکریٹری کے فرائض سنبھالے۔حضور نے ابتداء میں انہیں ارشاد فرمایا کہ فلاں دفتر سے کاغذ قلم اور فٹ لے لو اور پرائیویٹ سیکریٹری سے رابطہ کر کے ایک کمرے کا انتظام ہو جائے تو وہیں دفتر بنا لو چنانچہ دفتر پرائیویٹ سیکریٹری میں ہی وقف جدید کا پہلا دفتر بنا۔کچھ عرصہ بعد ایک پرائیویٹ گھر میں دفتر منتقل کیا گیا (۵)۔حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر اس کے صدر مقرر ہوئے۔وقف جدید کے مختلف شعبوں کو نظامت کا نام دیا گیا اور معلمین کی کاوشوں کی نگرانی نظامت ارشاد کے سپرد کی گئی۔اس کے علاوہ نظامت تعلیم ، مال اور جائیداد بھی قائم کی گئیں۔حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب آغاز سے ہی اس تنظیم کے ممبر تھے اور منصب خلافت پر سرفراز ہونے تک آپ اس تنظیم میں ناظم ارشاد کے عہدے پر فرائض ادا کرتے رہے۔یکم مارچ ۱۹۵۸ء کو حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کے ارشاد کے تحت بھارت میں بھی وقف جدید کا قیام عمل میں آیا۔مکرم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب اس کے انچارج مقرر کئے گئے اور آپ سمیت سات احباب کو اس مجلس کا ممبر مقرر کیا گیا۔۱۹۶۳ ء تک اس مجلس کے تحت 4 معلمین پونچھ، جموں، کیرالہ، میسور وغیرہ میں اپنے فرائض ادا کر رہے تھے۔ایک دو مقامات پر چھوٹے چھوٹے مدر سے بھی قائم تھے جن میں طلبہ کی تعداد ے کے تھی۔اس نئی مجلس نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی نگرانی میں کام کا آغاز کیا۔وقف جدید کے پہلے دو بجٹ جنوری اور اپریل ۱۹۵۸ء میں حضور کے ارشادات کے ماتحت پروگراموں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے تیار کئے گئے تھے۔اور تیسرا بجٹ دسمبر ۱۹۵۸ء میں ، سال اول کے وعدوں اور آمد کو مد نظر رکھ کر تیار کیا گیا۔اس عرصہ میں کام کا سارا زور نئے مراکز کے قیام پر تھا۔اور یہ کوششیں ثمر آور ہوئیں اور اپریل ۱۹۶۰ ء تک مغربی پاکستان میں ساٹھ سے زائد مراکز قائم کئے گئے۔اور مشرقی پاکستان میں بھی چار معلمین اور ایک انسپکٹر کا تقرر کیا گیا۔ابتداء میں معلمین کی تعلیم اور تیاری کے لئے کوئی باقاعدہ مدرسہ یا نظام موجود نہیں تھا محض دو ماہ کے عرصہ کے لئے مسجد مبارک میں ہی معلمین کو مختلف علماءِ سلسلہ کچھ تعلیم دیا کرتے تھے۔پڑھانے والے ان علماء میں حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب، مکرم مولانا ابوالمنیر نور الحق صاحب اور مکرم مولانا ابوالعطاء صاحب، مکرم مولانا جلال الدین صاحب شمس