سلسلہ احمدیہ — Page 518
518 خلاف کر کے دیکھ لیا مگر یہ ایسے مجنون ہیں کہ دین کو دنیا پر مقدم کئے چلے جا رہے ہیں۔اسی بات کا رونا ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ احمدی سب سے زیادہ قانون کی پابندی کرنے والے ہوتے ہیں۔جس وقت اس فتنے کا آغاز ہوا ، اُسوقت حضرت خلیفہ اُسیح اول کے چھوٹے صاحبزادے ،مولوی عبد المنان عمر صاحب امریکہ میں تھے۔جب امریکہ کے مشنری انچارج صاحب کو حضرت مصلح موعودؓ کے ابتدائی پیغامات پر مشتمل الفضل ملے تو انہوں نے نیو یارک میں جماعت کے مبلغ مکرم نورالحق انور صاحب کو ہدایت دی کہ وہ بوسٹن پہنچ کر مولوی عبد المنان صاحب سے رابطہ کریں۔مولوی نو رالحق انور صاحب ۷ اگست کو بوسٹن پہنچے اور انہیں اخبار الفضل کے تازہ پرچے پڑھنے کے لئے دیئے۔یہ الفضل پڑھ کر اُنہوں نے بجائے اظہار ندامت کے کچھ ایسا اظہار کیا کہ بات کچھ نہیں تھی امیر صاحب لاہور ، مکرم چوہدری اسد اللہ خان صاحب کی عبد الوہاب عمر صاحب کے ساتھ کچھ ناراضگی تھی ، جس کا انہوں نے بدلہ لیا ہے۔مولوی نورالحق صاحب نے اُن کو اُن گواہیوں کی طرف توجہ دلائی جو مختلف لوگوں نے دی تھیں ، اسد اللہ خان صاحب نے نہیں دی تھیں۔مگر وہ اسی بات پر مصر تھے کہ بات کا بتنگڑ بنالیا گیا ہے۔البتہ انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ ان کے اور مولوی عبد الوہاب صاحب کے اللہ رکھا صاحب سے دیرینہ تعلقات ہیں اور وہ ربوہ آ کر بھی انہیں ملتے رہے ہیں۔اور کہا کہ اُن سے مولوی عبد الوہاب صاحب نے یہ کہا تھا کہ حضور پر کام کا بوجھ زیادہ ہے اس لیے حضور کسی کو اپنا قائم مقام بنا دیں اور یہ اظہار بھی کیا کہ پیغامی اُن سے جتنا تعلق رکھتے ہیں، اتنا تعلق جماعت کے لوگ بھی نہیں رکھتے اور ربوہ میں بھی دور دور سے سفر کر کے ان سے ملنے آتے رہے ہیں۔ستمبر کے پہلے ہفتہ میں مولوی عبد المنان صاحب امریکہ سے ربوہ پہنچ گئے۔حسب سابق اخبار نوائے پاکستان نے اُن کی آمد کی خبر بہت نمایاں کر کے شائع کی اور لکھا کہ ان کی آمد کے ساتھ اب جماعت احمدیہ میں ضرور بغاوت زور پکڑ جائے گی۔چنانچہ ۱۳ستمبر ۱۹۵۶ء کے روز نوائے پاکستان نے صفحہ اول پر سب سے نمایاں سرخی شائع کی مسٹر عبدالمنان عمر کی امریکہ سے واپسی پر قادیانی خلافت کی کشمکش تیز ہو جائے گی اکثر قادیانی ترک مرزائیت کر کے مشرف با سلام ہورہے ہیں اس کے نیچے یہ خبر درج تھی کہ خلافت کے امیدوار عبدالمنان عمر امریکہ سے واپس ربوہ پہنچ گئے