سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 517 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 517

517 ان کے اخبار کو سرکاری اشتہارات سے اس کا حصہ نہیں ملتا رہا تھا (۵۳)۔۱۹۵۳ء کے فسادات کے دوران انہوں نے وزیر اعظم پاکستان کے سامنے اس بات کا اظہار کیا تھا کہ یہ سب مختلف اخبارات حکومت پنجاب سے اعانت لے کر جماعت احمدیہ کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔حمید نظامی صاحب کو یہ سب کچھ اُس وقت عقلِ سلیم کے خلاف نہیں لگ رہا تھا مگر اب جب وہ خود جماعتِ احمدیہ کے خلاف چلنی والی رو میں بہہ گئے تو انہوں نے اُسی بات کو خلاف عقل کہنا شروع کر دیا جس کو سب سے پہلے بیان کرنے والے وہ خود تھے۔یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جب اخبارات اور رسائل نے اس فتنہ کے دوران جماعت کے خلاف مہم شروع کی تو اُس وقت جیسا کہ حوالہ دیا جا چکا ہے یہ اخبارات لکھ رہے تھے کہ جماعت احمدیہ میں بغاوت ہوگئی ہے اور یہ خلفشار ایک ذہنی انقلاب کی تمہید ہے، احمدیوں کی آنکھوں سے اندھی عقیدت کی پٹیاں کھل رہی ہیں وغیرہ وغیرہ۔اور اب چند ماہ کے بعد یہ رونا رور ہے تھے کہ اندھی عقیدت نے ان لوگوں کے دماغوں کو ماؤف کر دیا ہے اور یہ عقل سے کام نہیں لیتے ، اس لئے انہیں گدھا بھی گھوڑا دکھائی دیتا ہے۔اس تبدیلی کی وجہ یہ تھی کہ اب انہیں یہ نظر آرہا تھا کہ چند منافقین کے علاوہ ساری جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے خلافت کے دامن سے چھٹی ہوئی ہے اور یہ سازش ناکام ہو رہی ہے۔حضور کی زیر نگرانی نظام جماعت اور جماعتی جرائد خصوصاً الفضل نے اس طرح پوری جماعت کو ہوشیار کیا تھا کہ مخالفین اور منافقین کا پراپیگنڈا نا کام ہو گیا تھا۔جب یہ سازش شروع ہوئی تو اس کے کرتا دھرتا اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ وہ احمدیوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہو جائیں گے مگر اب اپنی ناکامی پر کچھ جھنجلائے ہوئے لگ رہے تھے۔ان دنوں میں رسالہ چٹان میں ایک مضمون نگار نے لکھا ویسے قادیانی کچھ مجنون سے ہیں۔وہ دین کو دنیا پر مقدم رکھتے ہیں۔چونکہ خلیفہ صاحب دین اور حکومت دنیا ٹھہری اس واسطے وہ اپنے عقائد سے مجبور ہوکر خلیفہ صاحب کے بر پا کردہ نظام کو حکومت کے نظام پر ترجیح دیتے ہیں۔وہ انکم ٹیکس نہ دیں۔یا اس سے گریز و فرار اختیار کریں ، چندے سے ان کو مفر نہیں۔اگر ایسا ہو کہ وہ چندہ دیں یا انکم ٹیکس۔وہ دین کو دنیا پر مقدم کریں گے۔وہ چندہ ادا کریں گے۔‘ (۶۸) مندرجہ بالا سطور میں یہ ماتم واضح نظر آرہا ہے کہ ہم نے بعض ارباب اقتدار کو بھی احمدیوں کے