سلسلہ احمدیہ — Page 507
507 خلیفہ اسیح الثانی نے اپنے سے اختلاف کرنے والوں کو قتل کی دھمکیاں دینی شروع کر دی ہیں اور یہ فرضی مظلوم بجائے پولیس کے پاس جانے کے خوفزدہ ہو کر سیدھا نوائے پاکستان کے مدیر کے پاس آئے ہیں۔بالکل اسی انداز میں حضرت عثمان کے عہد میں منافقین نے ان الزام پر مشتمل افواہیں اڑانی شروع کی تھیں کہ حضرت عثمان اپنے مخالفین کو قتل کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔اور پھر نوائے پاکستان نے ۱۲ اگست کو یہ لا یعنی خبر شائع کی کہ حضرت مصلح موعودؓ نے مخالفین کو ان کی جائیدادوں سے محروم کر دیا ہے اور ان کا مخالف گروپ عبد المنان عمر صاحب کو خلیفہ بنانا چاہتا ہے۔اس سے مقصد یہ تھا کہ منافقین کو ایک مظلوم کے روپ میں پیش کر کے ان کے لئے ہمدردیاں حاصل کی جائیں۔اب جبکہ اس سازش میں پیغامیوں کا نام آچکا تھا اور یہ حقائق بھی شائع ہو چکے تھے کہ اس سازش کے کرتا دھرتا لوگ پیغامیوں کے ساتھ مل کر یہ فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔غالباً پیغامی اس صورتِ حال کے لئے پوری طرح تیار نہیں تھے اور ان کا خیال تھا کہ وہ ایک لمبا عرصہ یہ پرو پیگنڈا کرتے رہیں گے اور اس منصوبے کا کوئی خاطر خواہ نوٹس نہیں لیا جائے گا حتی کہ جب ماحول ان کے لئے پوری طرح سازگار ہو جائے گا تو پھر وہ اس فتنہ کا آخری مرحلہ شروع کر دیں گے۔جب وہ نظام خلافت سے منکر ہو کر علیحدہ ہوئے تو انہیں امید تھی کہ اپنی مداہنت کی وجہ سے انہیں مبائعین کے مقابلہ پر تبلیغ میں نمایاں کامیابی ملے گی لیکن نتیجہ اس کے بالکل برعکس نکلا۔خلافت سے وابستہ جماعت تیزی سے ترقی کرتی رہی اور غیر مبائعین کی جماعت مردنی کا شکار ہوتی رہی۔اب وہ اپنے میں زندگی کی رمق پیدا کرنے کے لئے کوشش کر رہے تھے کہ خلافت سے وابستہ جماعت کو خلافت سے بدظن کر کے اپنا ہم نوا بنا لیں۔لیکن ایک ماہ کے اندر تیزی کے ساتھ ان کی سازش کی حقیقت سب ظاہر ہوگئی اور یہ بھی ظاہر ہونے لگا کہ اس فتنے کو بھڑکانے کی کوششوں میں وہ بھی بنیادی کردار ادا کر رہے تھے۔اب انہوں نے یہ حکمت عملی اپنائی کہ ان کے ترجمان پیغام صلح نے یہ لکھنا شروع کیا کہ ان لوگوں نے خواہ مخواہ بات کا بتنگڑ بنا لیا ہے، اللہ رکھا تو مفلوک الحال سا شخص ہے۔(۳۴) اور خواہ مخواہ ہمارے پر الزام لگایا جارہا ہے کہ ہم نے اللہ رکھا کو اس کام پر لگایا ہؤا ہے۔ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں۔وہ تو ایک معمولی جھلا سا درویش ہے۔یہ کس طرح ممکن ہے کہ ہر