سلسلہ احمدیہ — Page 506
506 چوہدی ظفر اللہ خان نے خلیفہ قادیان سے مرعوب ہونے سے انکار کر دیا۔اور اس افواہ سازی کا انجام یہ ہوا کہ جماعت احمد یہ چنیوٹ نے اپنا اظہار وفاداری شائع کروا کر جھوٹوں پر لعنت بھیجی اور اللہ رکھا کے اپنے حقیقی بھائیوں نے اس سے اظہار بیزاری شائع کرا کے اعلان کیا کہ وہ خلافت سے وفا داری کو ہر رشتہ داری پر مقدم رکھتے ہیں اور اس سے کوئی تعلق بھی نہیں رکھنا چاہتے۔اور حضرت چوہدری صاحب نے حضور کی خدمت میں ایک عریضہ میں لکھا کہ جو عہد حضور نے طلب فرمایا ہے دل و جان اس کے مصدق ہیں جو کچھ پہلے حوالہ کر چکے ہیں۔وہ اب بھی حوالہ ہے۔(۲۸ تا ۳۱) اس موقع پر اخبار زمیندار پیچھے نہیں رہ سکتا تھا۔۱۹۵۳ء میں ہونے والی ناکامیوں کے زخم ابھی بھرے نہیں تھے۔اس اخبار نے خبر شائع کی کہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے اللہ رکھا سے ستر ہزار روپیہ قرض لیا تھا اور واپس نہیں کیا۔حالانکہ مرزا بشیر الدین محمود احمد نے خطبہ جمعہ میں اس کی واپسی کا وعدہ بھی کیا تھا (۳۲)۔زمیندار کو جھوٹی خبر لگانے کا ڈھنگ بھی نہیں آتا تھا تبھی باوجود اتنا پرانا اخبار ہونے کے اس کو چند سالوں کے بعد بند کرنا پڑا۔اللہ رکھا لنگر خانے میں ایک معمولی ملازم تھا ، اس کے پاس اتنا روپیہ کہاں سے آیا کہ وہ اتنی بڑی رقوم کے قرضے دیتا پھرے۔اور جس خطبہ جمعہ کا حوالہ گھڑا گیا ہے معلوم ہوتا ہے کہ وہ صرف زمیندار کے ایڈیٹر نے ہی سنا تھا اور کسی کو اس کی کانوں کان خبر نہیں ہوئی۔جب بھی اس طرح کا فتنہ کھڑا کیا جاتا ہے تو سازش میں شریک اخبارات کا ایک خاص طریق یہ ہوتا ہے کہ فورا یہ خبر لگائی جاتی ہے کہ احمدیوں میں بہت بد دلی پھیل گئی ہے اور بہت سے احمدی اب جماعت احمدیہ کو چھوڑ رہے ہیں۔اس طرح وہ ایک طرف تو ناواقف احمدیوں میں پریشانی پیدا کرنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف اپنے اُن آقاؤں کو اپنی نام نہاد کار کردگی دکھانا چاہتے ہیں جن کی مدد کا سہارا لے کر فتنہ کھڑا کیا جا رہا ہوتا ہے۔اس مرتبہ بھی ان اخبارات نے یہی حربہ استعمال کرنے کی کوشش کی۔(۳۳) اور پھر ۹ اگست ۱۹۵۶ء کی اشاعت میں اخبار نوائے پاکستان نے صفحہ اول پر خبر شائع کی کہ مرزا محمود قادیانیوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں اور قادیانی ان دھمکیوں کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔اور اب قادیانیوں کے نئے خلیفہ کے انتخاب کا قضیه سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔اور اسی روز کے اداریے میں اس اخبار نے الزام لگایا کہ حضرت