سلسلہ احمدیہ — Page 508
508 شخص سے اس کی جان پہچان ہو۔کئی شہادتوں سے یہ معلوم ہوا تھا کہ اللہ رکھا اور پیغامیوں کے ایک لیڈر میں میاں محمد صاحب کا آپس میں تعلق ہے۔اس لئے میاں محمد صاحب نے پیغام صلح میں لکھا کہ میں نے ہرگز اُس کے ساتھ کوئی ساز باز نہیں کی وہ کچھ مرتبہ میرے پاس آیا تھا اور میں نے اسے غریب جان کر اس کی مدد کر دی۔اور اس سے زیادہ ہمارا اس کے ساتھ کچھ تعلق نہیں۔(۳۵) پیغام صلح نے اس الزام کا ذکر کرتے ہوئے کہ اللہ رکھا کا پیغامی جماعت کے قائدین سے کوئی تعلق ہے لکھا، ہم ان کے تمام بیانات کو پڑھ کر حیران ہیں کہ جو قیاس آرائیاں انہوں نے حضرت مولنا صدرالدین صاحب یا جناب میاں محمد صاحب کے متعلق کی ہیں انہیں ان کی کسی خاص دماغی کیفیت کا نتیجہ قرار دیں یا فتنہ منافقین کا اثر کم از کم ان شہادتوں میں اللہ رکھایا دوسرے منافقین کے متعلق وہ پیش کر رہے ہیں،حضرت مولنا صدرالدین صاحب یا جناب میاں محمد صاحب یا جماعت لاہور کے کسی اور فرد کا کوئی ذکر نہیں پایا جاتا ، پھر انہوں نے کس طرح ان کو اس ناپاک سازش میں ملوث قرار دے دیا۔خلیفہ صاحب کو معلوم ہونا چاہئیے کہ حضرت مولانا صدرالدین صاحب اور جناب میاں محمد صاحب کا مقام اس سے بہت بلند ہے، جو اُنہوں نے سمجھا ہے۔۔۔(۳۴) جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اللہ رکھا تو ایک نیم دیوانہ سا شخص ہے اس کی باتوں کو سنجیدگی سے کیا لینے کی ضرورت ہے۔تو مندرجہ ذیل حقائق ہی اس بات کو خلاف عقل قرار دے دیتے ہیں۔۱۹۴۵ء سے پہلے سے یہ شخص مختلف مقامات پر جا کر جماعتی عہد یداروں کے خلاف بدظنیاں پھیلا رہا تھا۔حتی کہ حضور کو اس کے متعلق الفضل میں اعلان شائع کرانا پڑا۔۱۹۴۷ء کے پر آشوب دور میں جب کہ مشرقی پنجاب مسلمانوں سے تقریباً مکمل طور پر خالی ہو چکا تھا اور کوئی مسلمان آزادی سے باہر بھی نکل سکتا تھا ، اُس وقت یہ شخص قادیان جا پہنچتا ہے اور نہ صرف غریب درویشوں کو تنگ کرتا ہے بلکہ ایسے مقامی افسران سے تعلقات بھی بنالیتا ہے جو مسلمانوں سے تعصب رکھتے تھے اور ان کے ساتھ مل کر درویشوں کے خلاف مقدمات بھی بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔پھر پاکستان میں یہ شخص جگہ جگہ پھر کر مہم چلاتا ہے اور جب الفضل میں اس مہم کی حقیقت شائع ہوتی ہے تو ایک سے زیادہ ملکی اخبارات اس کی مدد شروع کر دیتے ہیں۔اور اسکے الزامات اور چیلنجوں کو اتنی اہمیت دی