سلسلہ احمدیہ — Page 500
500 ایجنٹ اللہ رکھا نامی ایک شخص تھا۔یہ شخص آزادی سے قبل بھی سلسلہ کے عہد یداران کے خلاف مختلف مقامات پر جا کر زہر اگلتا رہتا تھا۔اور اس کے مطابق اس کے علاوہ باقی سب لوگ بد دیانت اور اسکے مخالف تھے۔ان کے پراپیگنڈا کی وجہ سے حضور نے اگست ۱۹۴۵ء میں الفضل میں ان کے متعلق ایک اعلان بھی شائع کروایا تھا (۱۸) تقسیم ہند کے بعد یہ کسی طرح قادیان پہنچ گیا اور وہاں پر اس نے درویشوں کو تنگ کرنا شروع کیا اور بعض مقامی افسران کے ساتھ ساز باز کر کے بے کس درویشوں کے خلاف سازشیں شروع کر دیں۔ان کے خلاف مقدمات قائم کئے ، جن میں درویشوں کو اپنی ضمانتیں کروانی پڑیں۔جن دنوں میں مولوی عبد الوہاب صاحب وہاں پر مقیم تھے یہ مولوی صاحب کی سرگرمیوں میں ان کی معاونت کرتا تھا۔اللہ رکھا بعض مقامی افسران کے ساتھ مل کر جماعت کے خلاف ساز باز کرتا۔قادیان اور اس کے نواح میں کچھ ایسے افسران متعین تھے جن کی جانیں مغربی پنجاب کے فسادات میں احمدیوں نے بچائی تھیں ، یہ افسران جماعت پر حسن ظن رکھتے تھے۔مولوی صاحب ان افسران کے سامنے ایسی باتیں کہتے جن کے نتیجے میں اگر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل نہ ہوتا تو غریب اور بے کس درویشوں کے سروں پر مصائب کا ایک پہاڑ ٹوٹ پڑتا (۹)۔بالآخر کسی طرح قادیان کے درویشوں نے اللہ رکھا صاحب سے نجات حاصل کی اور یہ پاکستان آگئے۔اور مولوی وہاب صاحب کو بھی پاکستان بلوالیا گیا۔لیکن اللہ رکھا صاحب کے مفسدانہ طرز عمل کی وجہ سے ، حضرت مصلح موعودؓ نے ان کا اخراج از جماعت فرما دیا۔پاکستان آنے کے بعد ۱۹۵۰ء میں اللہ رکھا صاحب پیغامیوں کے ہیڈ کواٹر احمد یہ بلڈنگز میں مقیم ہو گئے اور ان کو وہاں پر سہولیات مہیا کی گئیں۔یہ سب کچھ پیغامیوں کے امیر صاحب کے حکم کے تحت ہو رہا تھا۔وہ اس وقت بھی ان کا کچھ کام کرتے تھے مگر عملی طور پر ان کی سرگرمیاں ۱۹۵۶ء تک پردہ راز میں ہی رہیں۔جب یہ فتنہ شروع ہوا تو پیغامی ان حقائق سے انکار کرتے رہے کہ ان کا اللہ رکھا صاحب سے کوئی تعلق ہے مگر عرصہ بعد ۱۹۷۴ء میں جب اللہ رکھا کا ان سے بھی جھگڑا ہو گیا تو اس نے خود یہ حقائق ایک خط کی صورت میں روزنامہ امروز کی ۲۱ مئی ۱۹۷۴ء کی اشاعت میں شائع کروا دیئے اور اس جھوٹ کی پردہ دری ہوگئی۔بہر حال ۱۹۵۶ء کے شروع میں انہوں نے مختلف جماعتوں کا دورہ شروع کیا۔اور یہ ظاہر کیا