سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 499 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 499

499 پروپیگنڈا کر رہا تھا۔یہ گروہ ربوہ کی ابتدائی کچی عمارت کا مذاق اُڑاتا اور حضرت مصلح موعودؓ کے خلاف ہر قسم کے اعتراضات کر کے لوگوں کے دلوں میں وسوسے پیدا کرنے کی کوشش کرتا (۱۶)۔ان کا طریق کیا تھا ؟ اس کے متعلق مکرم چوہدری محمد علی صاحب جو اس وقت تعلیم الاسلام کالج میں لیکچرار تھے فرماتے ہیں کہ میں جلسہ کے موقع پر جو عارضی ریستواران بنتے ہیں ان میں سے ایک کے پاس سے گذرا۔اس میں عبد الحمید ڈاہڈا اور اس کے ساتھی بیٹھے ہوئے تھے۔انہوں نے اصرار کر کے چوہدری صاحب کو اپنے ساتھ بٹھا لیا۔عبد الحمید نے الفضل کا سالا نہ نمبر نکال کر دکھایا جس میں ت مصلح موعودؓ کی تصویر شائع ہوئی تھی اور کہا کہ مرزا صاحب نے اپنی تصویر تو شائع کرادی ہے مگر خلیفہ اسی الاول کی تصویر شائع نہیں کی۔اس پر چوہدری صاحب نے کہا کہ تصویر شائع کرنے کا تعلق تو الفضل کی انتظامیہ سے ہے نہ کہ حضرت صاحب سے۔یہ کہ کر وہ غصے سے باہر چلے گئے۔تو ایک عرصہ سے اس قسم کے اعتراضات کرنا اور وسوسے پھیلانا ان لوگوں کا معمول تھا جیسا کہ حضرت عثمان کے عہد میں ہوا۔ان میں سے اکثر لوگ بظاہر کم حیثیت کے لگتے تھے جو پبلک مقامات یا اجتماعات پر اس قسم کی باتیں کرتے نظر آتے تھے۔اس لئے بہت سے لوگ ان کو اس قابل نہ سمجھتے کہ ان کی حرکات کو سنجیدگی سے لیا جائے لیکن جیسا کہ بعد کے حالات نے ظاہر کیا کہ ان کی باگ ڈور ایک ہاتھ میں تھی اور ایک ذہن اس سازش کے پیچھے کارفرما تھا۔یہ ذہن ایک موقع کی تلاش میں تھا ،جس سے فائدہ اُٹھا کر فتنے کی اس آگ کو پوری طرح بھڑ کا دیا جائے۔اور جب حضور کی بیماری شروع ہوئی تو اس سازش کے کرتا دھرتا افراد نے یہی سمجھا کہ جس موقع کی تلاش میں ہم تھے وہ موقع اب آگیا ہے۔(۱۷) بعد میں تحقیقات پر معلوم ہوا کہ جب جلسہ سالانہ کے موقع پر یہ گروہ ان ریشہ دوانیوں میں مصروف ہوتا تھا، مولوی عبدالمنان صاحب جو حضرت خلیفہ اسیح الاول کے چھوٹے بیٹے تھے، ان کو جلسہ سالانہ کے بجٹ میں سے مالی مدد مہیا کرتے تھے۔اس رقم کو پیشگی ادائیگی ظاہر کیا جاتا اور اس کا حساب کبھی نہ دیا جا تا۔(۱۶) فتنہ سر اُٹھاتا ہے: ۱۹۵۶ء میں ان کے ایک ایجنٹ نے مختلف جماعتوں کا دورہ کر کے پراپیگنڈا شروع کر دیا۔یہ