سلسلہ احمدیہ — Page 501
501 کہ وہ جماعت احمد یہ مبائعین سے تعلق رکھتے ہیں۔اور جو ان کی سابقہ حرکات سے واقف تھے انہیں یہ کہتے کہ مجھے اپنی سابقہ حرکات کی معافی مل چکی ہے اور اس کے ثبوت میں وہ مولوی عبد الوہاب صاحب کا خط دکھاتے جو بظاہر ان کی والدہ کی وفات پر تعزیت کے جواب میں لکھا گیا تھا۔مگر یہ حقیقت قابل توجہ ہے کہ یہ خط حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی بیگم صاحبہ کی وفات کے نو ماہ بعد لکھا گیا تھا اور اس میں لکھا گیا تھا کہ آپ کے تو ہمارے ساتھ بھائیوں والے تعلقات ہیں۔اور اللہ رکھا صاحب جماعت کے کچھ بزرگان کا نام لے کر کہتے کہ انہوں نے بھی مجھے خطوط لکھے ہیں لیکن وہ اس وقت میرے پاس نہیں ہیں۔جب انہیں جماعت کی کسی مسجد یا مہمان خانے میں ٹھہرا لیا جاتا تو یہ اپنا مخصوص پراپیگنڈا شروع کر دیتے کہیں پر کہتے کہ اب حضرت صاحب بوڑھے ہو گئے ہیں اور خلافت کے قابل نہیں رہے، کہیں پر مقامی امیر کے خلاف زہرا گلا اور کہیں پر کہا کہ حضور کی وفات کے بعد میاں ناصر کو خلیفہ بنانے کی سازش ہو رہی ہے اور ہم ان کی ہرگز بیعت نہیں کریں گے،اگر عبدالمنان عمر صاحب خلافت کا اعلان کریں تو ہزاروں ان کی بیعت کرنے کے لئے تیار ہو جائیں، ایک انقلاب آنے والا ہے۔دو سال میں پھر خلافت کا جھگڑا کھڑا ہونے والا ہے۔مری میں جب اس کی حرکات کی وجہ سے اسے خیبر لاج سے نکالا گیا تو اس نے طیش میں آکر کہا کہ ڈیڑھ سال میں مجھے نکالنے والوں پر تباہی آئے گی (۱۹،۱۰)۔اس طرح اس نے سرحد، پنجاب اور کشمیر کی بہت سی جماعتوں کے دورے کئے اور لوگوں کو بھڑکانے کی کوششیں کیں۔بہت سی جماعتوں میں مقامی احمدیوں نے اسے صاف کہہ دیا کہ تو ہمارے خلیفہ کی موت کا متمنی ہے اس لئے ہم تجھ سے بیزار ہیں تو یہاں سے فوراً نکل جا۔ان سفروں کے دوران بھی اس کے اور پیغامیوں کے روابط ظاہر ہوتے رہے۔یہ پیغامیوں کا لٹریچر تقسیم کرتا رہا اور ان کے عمائدین کو خطوط لکھتا رہا۔اور کئی مرتبہ یہ ان کے پاس جا کر ٹھہرا اور خاص طور پر پیغامیوں کے ایک سرکردہ لیڈر میاں محمد صاحب کی خاص طور پر تعریف کرتا رہا اور بعد میں تحقیق پر معلوم ہوا کہ پیغامیوں میں اس کا تعلق میاں محمد صاحب کے گروہ سے تھا(۱۹،۱۰،۲۱،۲۰)۔یہ شخص دیکھنے میں کم علم دکھائی دیتا تھا اور لگتا یہی تھا کہ یہ شخص کوئی ہوشیار شخص نہیں ہے لیکن اس کی مہار جن کے ہاتھوں میں تھی اُن کی مکاری کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب حضرت خلیفہ اسیح الثانی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے ایک صاحبزادے