سلسلہ احمدیہ — Page 466
466 دہرانے کی تلقین کی۔رات سوا نو بجے حضور باہر تشریف لائے اور کرسی پر تشریف فرما ہو کر لمبی اور پرسوز دعا کرائی۔حضور نے کے ایل ایم کی فلائیٹ میں نصف شب کے بعد روانہ ہونا تھا۔حضور کو رخصت کرنے کے لئے بہت سے خدام ایئر پورٹ پر صفیں بنا کر موجود تھے۔دو تین صفوں نے حضور سے شرف مصافحہ حاصل کیا اس کے بعد حضور کی کمزوری طبیعت کی بنا پر باقی لوگ حضور کے سامنے سے ہدیہ سلام پیش کر کے گذرتے رہے۔رات کے سوا ایک بجے حضور سیدہ ام متین اور سیدہ مہر آپا صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب ، اپنی دو صاحبزادیوں اور مکرم چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے ہمراہ ہوائی جہاز کے اندر تشریف لے گئے۔پونے دو بجے شب جہاز دمشق کے لئے روانہ ہو گیا۔جب تک جہاز کی سرخ بتیاں آسمان پر نظر آتی رہی کراچی ایئر پورٹ پر موجود خدام جو مختلف مقامات سے آئے ہوئے تھے، پر نم آنکھوں کے ساتھ جہاز کو دیکھتے رہے۔عین اس وقت ربوہ میں احباب مسجد مبارک میں جمع ہو کر اجتماعی دعا میں اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کر رہے تھے۔حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی تجویز تھی کہ حضور راستے میں عرب ممالک کے کچھ مقامات پر بھی قیام فرمائیں۔حضور نے یہ تجویز قبول فرمائی تھی۔سفر میں حضور کا پہلا قیام دمشق میں ہونا تھا۔شام میں قیام : سفر میں سردی کی وجہ سے حضور کی تکلیف میں اضافہ ہو گیا۔حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اور مکرم صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب ساری رات حضور کو آرام پہنچانے کی کوششیں کرتے رہے۔حتی کہ حضور کو حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کا نڈھال چہرہ دیکھ کر وہم ہو گیا کہ آپ بھی بیمار ہو گئے ہیں۔جب صبح ہوئی تو جہاز ریگستان پر پرواز کر رہا تھا۔آٹھ بجے حضور نے ناشتہ فرمایا۔جب دمشق قریب آیا تو نیچے سبزہ نظر آنے لگا اور پھر باغات اور نہریں دکھائی دینے لگیں۔دس بجے کے قریب جہاز دمشق کے ہوائی اڈے پر اترا۔مکرم منیر احصنی صاحب اور دمشق کی جماعت کے دیگر احباب نے حضور کا استقبال کیا۔جماعت کے مبلغ مکرم چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ جو دو دن قبل یورپ سے دمشق پہنچے تھے اور پاکستانی سنٹر کے لال شاہ بخاری صاحب بھی بمعہ اپنے عملہ کے حضور کے استقبال کے لئے موجود تھے۔حضور کا قیام مکرم بدر الدین صاحب صنی کے گھر میں