سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 467 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 467

467 تھا۔یہ خاندان کافی امیر تاجر تھا مگر اپنا تمام گھر حضور اور آپ کے قافلے کے لئے خالی کر کے اخلاص سے خدمت کر رہا تھا۔بیروت سے جماعت کے مبلغ مکرم شیخ نوراحمد منیر صاحب بھی دمشق میں حضور کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔حضور نے ایک ہفتہ دمشق میں قیام فرمایا۔یہاں آکر حضور کو وطن کی یاد آ رہی تھی اور حضور نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے نام اپنے ایک خط میں تحریر فرمایا کہ اس وقت دل چاہتا تھا کہ اُڑ کر اپنے وطن چلا جاؤں مگر مجبوری اور معذوری تھی۔(۱۹) مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب حضور کی طبیعت بہتر ہو رہی تھی۔اور وہاں سے اپنی طبیعت کے متعلق حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو تار بھجوائی Improving - حضور شام کے احمدیوں کے ہمراہ مجلس عرفان میں بھی رونق افروز ہوتے اور عموماً ظہر اور عصر کی نماز احباب جماعت کے ساتھ ادا کرتے۔حضور نے ایک مجلس میں بہائیوں کے حالات بھی دریافت فرمائے ( ۲۰ )۔دمشق میں اپنے قیام کے دوران حضور یہاں پر تبلیغ کو وسیع کرنے اور ایک اسکول قائم کرنے کے منصوبے پر غور فرماتے رہے۔ایک روز حضرت مصلح موعودؓ دمشق سے پانچ میل کے فاصلے پر ایک مقام دمر تشریف لے گئے۔وہاں نہر کے کنارے ایک کیفے میں تشریف فرما ر ہے۔۶ مئی کو حضور کے اعزاز میں دمشق کے احمدی احباب کی طرف سے جماعت کے مرکز زاویہ اکھنی میں دعوت تھی۔لیکن اس ایک روز بعض احباب کو ایسی خوا میں آئیں جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ حضور کو خطرہ در پیش ہے لیکن انجام بخیر ہے۔ظاہری تدبیر کے طور پر یہ قدم اٹھایا گیا کہ حضور زاویۃ الحصنی نہ تشریف لائیں بلکہ احباب کھانے کے بعد حضور کی خدمت میں حاضر ہو جائیں (۲۱)۔ے مئی کو حضرت مصلح موعود دمشق سے بیروت کے لئے روانہ ہوئے۔ایک روز قبل جمعہ کا دن تھا۔حضور نے بدر الدین حصنی صاحب کے مکان میں فصیح و بلیغ عربی زبان میں ایک مختصر خطبہ پڑھا۔جس کا مفہوم یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آج سے تقریباً نصف صدی قبل جب کہ آپ میں سے اکثر بھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام فرمایا تھا يدعون لك ابدال الشام وصلحاء العرب یعنی تیرے لئے شام کے ابدال اور عرب کے نیک بندے دعائیں کرتے ہیں۔آج تمہارے وجود میں یہ نشان پورا ہو رہا ہے۔نماز جمعہ کے بعد حضور کافی دیر احباب میں رونق افروز رہے۔اگلے روز صبح حضور جمع قافلہ بیروت کے لئے روانہ ہو گئے۔دمشق کے کچھ مخلصین بھی حضور کے ہمراہ بیروت روانہ ہوئے۔(۲۲)