سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 465 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 465

465 ان خدشات کی عملی تصدیق ہے جو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے سفر پر جانے سے قبل جماعت پر ظاہر کر کے اسے متنبہ کیا تھا کہ امام کی غیر حاضری میں اس قسم کے فتنے اُٹھ سکتے ہیں۔جماعت کو اس خطرہ کی طرف سے ہوشیار رہنا چاہیئے۔۔۔پس دوستوں کو چاہیے کہ ان ایام میں خاص طور پر دعاؤں اور صدقہ و خیرات سے کام لیں اور اپنے اندر تقویٰ اور طہارت نفس پیدا کریں۔۔۔(۱۸) کراچی سے یورپ کے لیے روانگی: یورپ جانے کے لئے حضور کے قافلہ کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔پہلا قافلہ مکرم و محترم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کی زیر نگرانی ۱۲۶ اپریل کو کراچی سے لنڈن کے لئے روانہ ہوا۔اس میں حضرت سیدہ ام ناصر صاحبہ ، حضرت سیده ام وسیم صاحبہ مکرم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب اور ان کی بیگم صاحبہ اور بیٹی اور حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب اور حضرت مصلح موعودؓ کے چار اور بیٹے ، حضور کے داماد مکرم میر داؤ د احمد اپنی بیگم صاحبہ اور دو بچوں کے ہمراہ ، اور حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب شامل تھے۔حضور کے ہمراہ حضور کی بیگمات حضرت سیدہ ام متین صاحبہ اور حضرت سیدہ مہر آپا، حضور کی دو صاحبزادیاں محترمہ امتہ المتین صاحبہ اور محترمہ امتہ الجمیل صاحبہ، مکرم ڈاکٹر صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب اور حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے روانہ ہونا تھا۔اور حضور کے ساتھ روانہ ہونے والے قافلہ نے عرب ممالک سے ہو کر یورپ جانا تھا۔اور تیسرے قافلے میں مکرم شریف اشرف صاحب، مکرم قریشی عبد الرشید صاحب، ملک مبارک احمد صاحب، کیپٹن محمد حسین چیمہ صاحب اور عبد اللطیف صاحب شامل تھے۔تیسرا قافلہ عملہ کے اراکین پر مشتمل تھا اور اس نے ۳ مئی کو کراچی سے لنڈن روانہ ہونا تھا۔۲۹ اور ۱۳۰ اپریل کی درمیانی شب کو حضرت مصلح موعودؓ کراچی سے یورپ جانے کے لئے روانہ ہوئے۔سفر کے پہلے مرحلے میں آپ نے کراچی سے دمشق جانا تھا۔رات کو حضور کو رخصت کرنے کے لئے احباب جماعت حضور کی قیام گاہ کوئٹہ والا بلڈنگ مالیر میں جمع ہو چکے تھے۔حضور کے ارشاد کے ماتحت مکرم مولانا عبدالمالک صاحب نے لاؤڈ سپیکر پر مسنون دعائیں پڑھیں اور احباب کو ان کو