سلسلہ احمدیہ — Page 453
453 سب سے بڑا ظلم یہ کیا گیا کہ اس گھناؤنے جرم کو رسول کریم ﷺ کی محبت کا نتیجہ بیان کیا گیا۔حالانکہ آنحضرت ﷺ تو تمام عمر اپنے جانی دشمنوں کی بھی خیر خواہی کرتے رہے تھے۔ایسا مجرم ابو جہل کے نقش قدم پر چلنے والا تو کہلا سکتا ہے، عاشق رسول ہر گز نہیں کہلا سکتا۔اور سیشن عدالت کا کام صرف یہ تھا کہ اس قاتلانہ حملے کے مقدمے کا فیصلہ کرے۔ختم نبوت کے مسئلے پر اپنی ذاتی رائے کے اظہار کا یہ موقع نہیں تھا۔اور یہ تمہید اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کا حصہ تھی کہ یہ حملہ کسی سازش کا حصہ نہیں تھا بلکہ انفرادی فعل تھا۔جج نے اپنے فیصلہ میں بہت زور دے کر لکھا اس بات کا ذرہ بھر بھی ثبوت نہیں ملتا کہ یہ اقدام کسی سازش کا حصہ تھا۔یا یہ لڑکا کسی کے ہاتھ میں ہتھیار بنا ہو ا تھا۔اب ہم حملہ آور کے حالات اور پس منظر کا جائزہ لیتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ یہ ایک انفرادی فعل تھا یا یہ لڑکا کچھ ہاتھوں میں آلہ کار بنا ہوا تھا۔مجرم چک ۲۲۰ حج والا کا رہنے والا تھا جو لائکپور سے دو میل دور جھنگ کی سڑک پر تھا۔اس کا باپ منصب دار ساٹھ ستر سال کا معمر شخص اور جوڑوں کے درد میں مبتلا تھا۔اور تقسیم ہند سے قبل جمال پور گاؤں ضلع جالندھر میں رہتا تھا۔یہ گاؤں جالندھر سے سترہ اٹھارہ میل کے فاصلے پر تھا۔گذارہ تنگی سے ہوتا تھا۔چار بھائی تھے۔بڑے بھائی معمولی ملازمت کرتے تھے یا ایک بھائی قلیل اراضی پر کاشتکاری کا کام کرتا تھا۔چک ۲۲۰ حج والا میں جماعت کی کوئی خاص مخالفت نہیں تھی اور نہ ہی ۱۹۵۳ء کے فسادات میں یہاں جماعت کے خلاف شورش میں کوئی خاطر خواہ حصہ لیا گیا تھا۔مجرم عبد الحمید لائکپور کے سٹی مسلم ہائی اسکول میں پڑھتا تھا اور پڑھائی میں نالائق طالب علم سمجھا جاتا تھا۔البتہ مذہبی مسئلے مسائل پر بہت گفتگو کیا کرتا تھا۔جامع مسجد لائلپور میں مولوی محمد یونس صاحب نام کا مولوی ہوتا تھا جو خطرناک احراری اور جماعت احمدیہ کے بہت خلاف تھا۔اس مولوی نے ۱۹۵۳ء کی شورش میں حصہ لیا تھا۔اور جب پنجاب سے جتھے دارالحکومت کراچی بھجوائے گئے تو یہ بھی جتھہ لے کر کراچی گیا تھا مگر خود گرفتار نہیں ہوا تھا اور حالات کے پرسکون ہونے کے بہت بعد واپس لائکپور آیا تھا۔عبدالحمید کا اس مولوی کے پاس کافی آنا جانا تھا اور اس سے کافی مراسم تھے۔یہ مولوی ۱۹۵۳ء میں لائکپور میں فسادات کی آگ بھڑ کانے میں پیش پیش