سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 454 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 454

454 تھا۔مگر اس واقعہ سے ایک ڈیڑھ ماہ قبل یہ مولوی اس دنیا سے کوچ کر گیا تھا۔اور اس کی جگہ جو مولوی صاحب مقرر ہوئے وہ جامع مسجد کی خطیب ہونے کے علاوہ سٹی مسلم ہائی سکول میں پڑھاتے بھی تھے۔اور ان کا نام مولوی شبیر تھا۔اور مودودی صاحب کے پیروکار تھے۔فسادات کے بعد انہوں نے جماعت اسلامی کے لئے گواہی بھی دی تھی۔ان سے بھی عبدالحمید کے تعلقات تھے۔اور عبد الحمید کا ان کے پاس آنا جانا تھا۔مسلم سٹی ہائی سکول میں آنے سے پہلے عبد الحمید ایم بی ہائی سکول میں پڑھا کرتا تھا۔اس سکول میں ماسٹر تاج محمود نام کے ایک استاد پڑھاتا تھا۔جن کا تعلق مجلس احرار سے تھا جماعت کے شدید مخالف تھا۔۱۹۵۳ء میں جب پولیس نے ان کو گرفتار کرنے کے لئے چھاپے مارنے شروع کئے تو یہ مجرم عبد الحمید کے گاؤں چک ۲۲۰ حج والا کے قریب کے ایک گاؤں میں روپوش ہو گیا اور وہاں پولیس نے انہیں پاتھیوں میں چھپا ہوا پکڑ کر گرفتار کیا۔اور حضور پر حملہ سے کچھ ہی عرصہ قبل یہ شخص رہا ہو کر واپس آیا تھا اور اس کا سکول کے طلبا نے استقبال بھی کیا تھا۔عبدالحمید کے مولوی تاج محمود سے بھی قریبی تعلقات تھے۔اور جماعت کے مخالف ایک مولوی محمد اسلم نام کا بھی اس وقت سٹی مسلم ہائی سکول میں پڑھاتا تھا اور یہاں پر آنے سے پہلے وہ ایم بی ہائی سکول میں پڑھایا کرتا تھا۔( یہ وہی سکول ہے جہاں پر پہلے عبد الحمید پڑھا کرتا تھا۔)۔یہی شخص جماعت کا شدید مخالف تھا اور کلاس میں کھلے بندوں جماعت احمدیہ کے خلاف بولا کرتا تھا۔اور اس نے ۱۹۵۳ء کی شورش میں اپنے آپ کو گرفتاری کے لئے بھی پیش کیا تھا۔گو کہ مجرم کے گھر یلو حالات اچھے نہ تھے لیکن خاندانی طور پر اس کا تعلق عزیز دین نام کے ایک ایم ایل اے کے سسرال سے تھا جو دولتانہ صاحب کے بہت قریب سمجھے جاتے تھے۔قاتلانہ حملہ سے قبل عبدالحمید نے کئی ساتھیوں سے کہا کہ اب میں نے چلے جانا ہے اور پھر نہیں آنا۔اور اپنی یہ خواب بھی سنائی کہ میں نے مرزا محمود کو چاقو مارا ہے اور پھر خود کو مارا ہے مگر میں بیچ گیا ہوں۔عبد الحمید سکول میں صرف حاضری لگایا کرتا تھا اور اس کا زیادہ تر وقت سکول سے باہر ہی گذرتا تھا۔اس کے سکول یعنی سٹی مسلم ہائی سکول میں طلبہ میں نظم و ضبط بالکل نہیں تھا اور ماحول ایسا تھا کہ اس قاتلانہ حملہ سے چار پانچ ماہ قبل ایک طالب علم نے ایک اور طالب علم کو چاقو مار کر تل کر دیا تھا۔