سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 449 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 449

449 اسی زمرے میں آتا ہے (۲۳)۔یہ تو طب کا معمولی علم رکھنے والا بھی بتا سکتا ہے کہ گردن میں جو زخم شہ رگ کے قریب تین انچ چوڑا اور سوا دو انچ گہرا ہو اور ہڈی تک پہنچا ہو اس سے تو یقیناً جان کو خطرہ ہوسکتا ہے۔اور خود ڈاکٹر ریاض قدیر صاحب یہ گواہی بھی دے رہے تھے کہ زخم کے لگنے کے گیارہ گھنٹے کے بعد بھی ابھی درمیانے سائز کی Artery سے خون بہہ رہا تھا۔اتنی دیر ایک درمیانے سائز کی Artery سے خون بہنے سے تو ویسے ہی مریض Shock میں جاسکتا ہے اور اس کی زندگی کو خطرہ ہوتا ہے۔جب ملزم کو پیش کیا گیا تو اُس نے اقرار کیا کہ میں نے جان بوجھ کر نیت قبل سے حملہ کیا کیونکہ اس نے میرے محبوب نبی کریم علیہ کی توہین کی تھی۔کس طرح اور کب یہ فرضی تو ہین کی گئی تھی اس کے متعلق مجرم نے کچھ نہیں کہا۔عدالت میں اپنی روحانیت کا رعب جمانے کے لئے مجرم نے کچھ ڈرامائی حرکات بھی کیں۔ایک موقع پر اپنی تسبیح کا امام حضور کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ اس میں سب کچھ نظر آتا ہے اس میں دیکھ کر آپ سب کچھ مان جائیں گے۔اس میں مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی شبیہ نظر آتی ہے۔جب حضور نے فرمایا کہ میں نے نعروں کی آواز نہیں سنی تو مجرم نے اونچی آواز میں حق کا نعرہ لگایا۔قرائن ظاہر کر رہے تھے کہ مجرم کو سزا سے بچانا تو ممکن نہیں تھا ، اس کی سزا میں تخفیف کے لئے اہتمام کیا جا رہا تھا۔بهر حال ۲۶ مئی ۱۹۵۴ء کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ چوہدری محمد اسحاق صاحب نے مقدمے کا فیصلہ سنایا۔عدالتی فیصلے میں ڈاکٹر ریاض قدیر صاحب کے بیان کو باوجود اس بیان کے اندرونی تضادات کے بہت نمایاں کر کے بیان کیا گیا۔اور یہ نتیجہ نکالا گیا کہ چونکہ ڈاکٹر مرزا منور احمد نے زخم کا تفصیل سے جائزہ نہیں لیا تھا اور صرف اوپر سے ٹانکے لگائے تھے اس لئے ان کا بیان صحیح تسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ زخم سے زندگی خطرہ میں پڑ سکتی تھی۔اور ہمیں ڈاکٹر ریاض قدیر کا بیان صحیح تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ زخم خفیف تھا اور اس سے زندگی کو خطرہ نہیں پیدا ہوا تھا۔عدالت نے اپنے فیصلہ میں چاقو کو ایک قلم تراش قرار دیا بلکہ ایک مقام پر یہ بھی لکھا کہ زخم خفیف تھا اور ملزم کو یہ بھی اندازہ ہوگا کہ وہ باجماعت نماز میں قتل نہیں کر سکتا۔عقل اس نتیجہ کو بھی قبول نہیں کر سکتی کیونکہ دنیا کی تاریخ میں بہت سے قتل بھرے مجمع میں اور شدید ترین حفاظتی انتظامات کے باوجود بھی ہوئے ہیں اور