سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 448 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 448

448 سے اور گیا۔زخم کے کھولنے پر معلوم ہوا کہ تمام زخم خون کے لوتھڑے سے بھرا ہوا تھا اور درمیانے سائز کی ایک رگ (Artery) سے ابھی تک خون بہہ رہا تھا اور زخم کی گہرائی Sternocleidomastoid پٹھے کے کٹے ہوئے حصے سے بھی ابھی تک خون رس رہا تھا۔زخم سوا دو انچ گہرا تھا۔پھر آپریشن کی تفصیلات بتانے کے بعد ڈاکٹر ریاض قدیر صاحب نے یہ حیران کن بیان دیا کہ قانونی طور پر زخم Simple تھا اور اس سے حضرت مصلح موعودؓ کی زندگی کو خطرہ نہیں تھا۔یہ بات قابلِ ذکر ہے جس دن حضور پر حملہ ہوا ہے اُس دن سب سے زیادہ ریاض قدیر صاحب تشویش کا اظہار کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ انتظار خطرناک ہوسکتا ہے، آپریشن ابھی کرنا پڑے گا۔اور اگر زخم خفیف تھا تو ان جیسے ماہر سرجن کو زخم کا آپریشن کرنے میں سوا گھنٹہ کیوں لگا تھا۔(ریاض قدیر صاحب منشی غلام قادر فصیح صاحب کے بیٹے تھے جنہوں نے پہلے حضرت مسیح موعود کی بیعت کی تھی مگر کچھ عرصہ کے بعد پیچھے ہٹ گئے تھے۔ریاض قدیر صاحب کو بعد میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کا پرنسپل بنایا گیا اور پھر وہ مودودی صاحب کے سمدھی بھی بنے)۔اس کے بعد صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب نے گواہی دیتے ہوئے کہا کہ زخم سے حضور کی زندگی کو خطرہ تھا۔یہاں پر ہم ڈاکٹر ریاض قدیر صاحب کے بیان کا قانونی طور پر جائزہ لیتے ہیں۔اس وقت کے رائج Pakistan Penal Code کے 16 Chapter کی شق نمبر 320 کے مطابق ہر زخم جس کے نتیجے میں ہیں روز یا اُس سے زیادہ عرصہ تک درد ہوتی رہے یا اس کے نتیجے میں اس عرصہ تک آدمی اپنی معمول کی زندگی دوبارہ شروع نہ کر سکے ، وہ زخم شدید نوعیت کا زخم ( Grievous Hurt) کہلاتا ہے اور ہر وہ زخم جس سے مضروب کی زندگی کو خطرہ ہو وہ بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔اور اس حملے پر ایک ماہ سے بھی زیادہ عرصہ گذر جانے کے بعد بھی حضور نہ تو معمول کے مطابق مسجد میں نماز باجماعت پڑھانے کے لئے تشریف لا رہے تھے اور نہ ہی حضور کی صحت اس قابل تھی کہ وہ خطبہ جمعہ پڑھا سکیں۔اور خود حکومت کے ڈاکٹر نے یہ سرٹیفیکیٹ دیا تھا کہ عدالت میں پیشی کے وقت حضور کی صحت اس قابل بھی نہیں تھی کہ وہ جھنگ کا سفر بھی کرسکیں جہاں پر اس عدالت نے منعقد ہونا تھا۔حالانکہ جھنگ ربوہ سے اتنا دور بھی نہیں ہے۔اور عدالت نے اس رائے کو تسلیم کرتے ہوئے کاروائی لالیاں میں منعقد کی تھی۔اور ہر زخم جس کے نتیجے میں زندگی خطرے میں پڑے وہ بھی