سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 445 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 445

445 پرتاب، آزادی سے قبل احرار کی سرگرمیوں اور بیانات کو اپنے صفحات میں نمایاں جگہ دے رہا تھا اور اُن کی حوصلہ افزائی کر رہا تھا۔اس موقع پر اس اخبار نے خبر شائع کی ، احمدی جماعت کے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود احمد پر جبکہ وہ نماز پڑھ کر مسجد سے باہر نکل رہے تھے چاقو کے تین وار کئے۔ان کی گردن پر زخم تو آئے لیکن نہ ایسے کہ تشویش پیدا ہو۔۔۔۔۔احمدیوں کے خلاف پاکستانیوں کے جو جذبات بھڑکائے گئے اس کے پیش نظر یہ وار تعجب خیز نہیں۔تعجب ہے تو یہ کہ یہ وار اس سے پہلے کیوں نہ ہوا۔احمدیوں کو شکایت نہیں ہو سکتی۔کیونکہ وہ خود بھی تشدد سے کام لیتے ہیں۔متحدہ پنجاب میں ایک احمدی نے ایک ایسے مسلمان کو جو احمدی جماعت کے خلاف لکھتا اور بولتا رہتا تھا بس میں قتل کر دیا تھا۔(۱۷)۔گویا چند برس پہلے قادیان میں جو سینکڑوں احمدی شہید ہوئے تھے وہ پر تاب کو یاد نہیں رہے۔گذشتہ سال پاکستان میں جو احمدیوں پر مظالم ہوئے تھے ان کو بھی قابلِ توجہ نہیں سمجھا گیا۔ان سب حقائق کو نظر انداز کر کے اس موقع پر جب احمدیوں کے امام پر قاتلانہ حملہ کر کے احمدیوں کے دلوں کو زخمی کیا گیا تو پرتاب نے جماعت احمدیہ پر ہی تشدد کا الزام لگا دیا۔مگر ہندوستان کے مسلمان اخبارات میں سے ایسے بھی تھے جنہوں نے شریفانہ رویہ دکھایا۔مدراس کے ہفتہ وار دلچسپ نے اپنے اداریہ میں لکھا، اس ملک میں جہاں اسلامی قوانین کے لئے رات دن چیخ و پکار ہوتی رہتی ہے۔اس اسلامی قانون ہی کی خلاف ورزی عمل میں آرہی ہے۔یہ مسلم قوم کی بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے کہ ایک طرف تو بلند و بانگ اسلامی دعوے ہوں اور دوسری طرف ان دعووں کا رد عمل شروع ہو جائے۔اس سلسلے میں حال کی افسوسناک اطلاع سے بخوبی ظاہر ہوسکتا ہے کہ لاہور سے سو میل کے فاصلے پر ربوہ نامی مقام پر مولانا بشیر الدین محمود احمد امام جماعتِ احمدیہ پر دن دھاڑے حملہ ہوا اور وہ بھی کسی غیر قوم کے فرد سے نہیں بلکہ ایک مسلمان ہی کے ہاتھوں۔۔۔۔۔احمدی سوائے دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے اور کسی چیز کو اپنا مقصد نہیں بتاتے۔ہاں یہ سچ ہے کہ وہ حضرت مسیح ناصری کے متعلق اپنے عقائد ہم سے کچھ جدا گانہ رکھتے ہیں لیکن اس بناء پر تو کوئی دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا اور نہ اس سے اسلام کے بنیادی اصولوں میں کوئی اختلاف پیدا ہوتا ہے۔اس سے جدا ہو کر اگر دیکھا