سلسلہ احمدیہ — Page 444
444 جب مجرم حوالات کے اندر اپنے بیانات بدل کر اور دوسرے حیلوں سے تفتیش کے عمل کو مؤخر کر رہا تھا،حوالات سے باہر جماعت کے مخالفین اپنے پرانے ہتھیار استعمال کر کے ایک اور کھیل کھیل رہے تھے۔احرار سے تعلق رکھنے والے اور دیگر مخالفین اس قاتلانہ حملے کی مذمت میں بیانات دے رہے تھے۔پہلے انہی کے جلسوں میں لوگوں کو اشتعال دے کر احمد یوں بالخصوص حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے قتل پر اُکسایا جاتا تھا۔(۱۳،۱۲) وہ یہ افواہیں اڑا رہے تھے کہ حملہ آور ایک احمدی تھا۔اور یہ قاتلانہ حملہ جماعت کے اندرونی اختلافات کا نتیجہ ہے۔چنانچہ داؤ دغزنوی صاحب نے بیان جاری کیا کہ انہیں شبہ ہے کہ یہ حملہ قادیانیوں کے باہمی اختلافات کا نتیجہ ہے۔(۱۴) غازی سراج الدین صاحب امیر تحریک اسلام و مجاهدین المسلمین نے ایک بیان میں جماعت کی طرف سے جاری کردہ بیانات کو گمراہ کن پروپیگینڈا قرار دیا اور کہا کہ مرزا بشیر الدین محمود پر حملہ کا تعلق ربوہ کے اندرونی خلفشار اور اختلاف سے ہے۔۔۔ربوہ میں بسنے والے قادیانیوں کی ایک زبردست اقلیت مرزا بشیر الدین صاحب سے شدید اختلاف رکھتی ہے۔اور اُنہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نہ صرف اس واقعہ کی تحقیقات کرائی جائیں بلکہ ربوہ میں موجود اندرونی نظام اور متوازی حکومت کے متعلق بھی تحقیقات کرائی جائیں۔مرزا صاحب پر جس کسی نے بھی حملہ کیا ہو وہ بہر حال مرزائی ہے اور اس کا تعلق ربوہ کی اس قادیانی جماعت سے ہے جو قادیانی خلافت کی باغی ہے۔(۱۵) اخبار الاعتصام نے احمدیوں سے کچھ ہمدردی کا اظہار کر کے لکھا اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس امر کی خصوصیت سے سرکاری طور سے تحقیقات کرائی جائے کہ آخر ایک احمدی یا کم از کم نیم احمدی نے ہی مرزا صاحب پر کیوں قاتلانہ حملہ کیا؟ اس نے ربوہ پہنچ کر ایسی کون سی شے دیکھ لی جس نے اس کو اتنے بڑے فعل کے ارتکاب پر مجبور کر دیا۔کیا اس کا یہی ایک سبب ہے کہ مرزا صاحب نے اسے ملاقات کرنے اور بیعت ہونے کا وقت نہیں دیا۔یا اس میں کوئی اور بھید بھی ہے۔(۱۴) اسی طرح سے اخبار کو ہستان نے جس کے مدیر مشہور مصنف نسیم حجازی تھے نے بھی یہ دعویٰ کیا کہ باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حملہ آور قادیانی تھا۔(۱۶) ہندوستان کے ہندو اخبارات میں -