سلسلہ احمدیہ — Page 446
446 جائے تو یہ کہنا پڑے گا کہ وہ ہم سے کہیں زیادہ مذہب وملت کے قائل ہیں اور اپنا جینا اور مرنا بھی تو اس کے لئے ہی بتاتے ہیں۔اور بات ہے بھی کچھ ایسی ہی کہ ان احمدیوں کے اشاعت اسلام والے کارنامے بہت شاندار ہیں۔جن کا ہم اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکتے (۱۸) اسی طرح پاکستان کے بعض اخبارات بھی اس حملے کی شدید مذمت کر رہے تھے۔آزاد کشمیر کے ہفت روزه آواز حق نے اپنے اداریے میں لکھا، اگر اس قسم کی حرکتوں کو کچل کر نہ رکھ دیا گیا تو پاکستان میں کسی کی بھی جان محفوظ نہیں ہے۔بڑے سے بڑے حکمران، سیاسی تا مذہبی لیڈر کا روباری آدمی کو ایک بزدل کرائے کا ٹوموت کی گھاٹ اُتار سکتا ہے۔(۱۹) پشاور کے اخبارت تنظیم نے اس حملے کی مذمت کرنے کے بعد لکھا، ہم اس حادثہ میں مرزا صاحب اور ان کے تمام مریدوں سے دلی طور پر ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نیک مقاصد کے لئے مسلمانوں کی خدمت کے لئے دینِ اسلام کی تقویت کے لئے حضرت مرزا صاحب کو صحت اور شفائے کلی عطا فرمائے۔(۲۰) چند دنوں میں یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ یہ شخص غیر احمدی تھا اور حضور پر قاتلانہ حملے کی نیت سے ہی ربوہ میں آیا تھا۔الفضل میں ان افواہوں کی تردید شائع کی گئی کہ یہ شخص احمدی تھا اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ اس امر کی تحقیق کرے کہ یہ غلط افواہیں کس غرض کے لئے پھیلائی جا رہی ہیں۔(۲۱ ۲۲) مخالفین نے ایک مرتبہ پھر اوچھا وار کیا تھا اور نا کام رہے تھے۔قاتلانہ حملے میں ناکامی کے بعد ان کی کوشش تھی کہ کسی طرح جماعت میں فتنہ پیدا کیا جائے اور یہ ظاہر کیا جائے کہ احمدیوں میں شدید اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔اس طرح ایک طرف تو جماعت میں فتنہ پیدا کیا جائے اور دوسرے اپنے اوپر شبہ نہ آنے دیا جائے۔مگر ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی وہ ناکام رہے۔جب حملہ کرنے والے پر مقدمہ چلنے کا مرحلہ آیا تو مقامی انتظامیہ نے ایسا رویہ اپنایا جیسا کہ وہ اس معاملے کو رفع دفع کرنا چاہتے ہیں۔ایسے فوجداری مقدمات میں گورنمنٹ خود مدعی ہوتی ہے۔