سلسلہ احمدیہ — Page 428
428 نے بھونکنا چھوڑ دیا ہے تو کسی کو پتا ہی نہیں رہا کہ میں کہاں ہوں۔(۱۲۶) خدا کی شان ہے کہ اسی زبان نے ہزار ہا مرتبہ حضرت مسیح موعود کی شانِ اقدس میں گستاخی کی تھی۔اور اب شاہ جی خودا سے کتیا کا نام دے رہے تھے۔مودودی صاحب اور ان کی جماعت اسلامی نے پہلے تو یہ موقف اختیار کئے رکھا کہ قادیانیوں کی مخالفت جس طرز پر ہو رہی ہے وہ ان کو کوئی نقصان پہنچانے کی بجائے ان کی تقویت کا موجب ہو رہی ہے۔اگر ان کا ابطال کرنا ہی ہے تو چاہئیے کہ سنجیدہ علمی اور سائینٹیفیک طریقے پر ان کی تنقید کی جائے۔لیکن جب انہیں یہ نظر آیا کہ وہ اس طرح سیاسی فوائد اُٹھا سکتے ہیں تو وہ بھی اس شورش میں شامل ہو گئے۔ڈاکٹر اسرار احمد صاحب جو اُس وقت جماعت اسلامی میں شامل تھے مگر پھر یہ دوغلی پالیسی دیکھ کر علیحدہ ہو گئے لکھتے ہیں اس داستان کا المناک ترین باب مسئلہ قادیانیت میں جماعتِ اسلامی کا طرز عمل ہے! اس کے دوران جماعت اور اس کے قائدین نے جس طرح اپنے اصولوں کی بجائے عوام کے چشم و ابرو کے اشاروں پر حرکت کی ہے۔اسے دیکھ کر انسان سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ اتنی قلیل مدت میں ایک جماعت کا مزاج اس درجہ بھی بدل سکتا ہے؟ (۱۲۴) آخر میں مودودی صاحب کے ساتھیوں کو اعتراف کرنا پڑا کہ یہ تحریک سیاسی مقاصد کے تحت چلائی گئی تھی۔جیسا کہ مودودی صاحب کے حالات زندگی بیان کرتے ہوئے اسعد گیلانی صاحب لکھتے ہیں، پنجاب کی حکومت نے بیورو کریسی کے ساتھ مل کر اپنی ہی مرکزی حکومت کے خلاف مورچہ لگایا۔قادیانی مسئلہ خود اُٹھایا تا کہ مذہبی عناصر کو بد نام کر کے کچلا جا سکے۔اس طرح نظریہ پاکستان اسلام کے لیے پاکستان میں ہی سارے دروازے بند کر دیے گئے (۱۲۵) پاکستان پر شورش کے اثرات: ۱۹۵۳ء کے فسادات صرف جماعت احمدیہ کی تاریخ کا ہی نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخ کا بھی