سلسلہ احمدیہ — Page 427
427 رپورٹ دے دیں گے کہ تلاشی لی گئی تھی لیکن کوئی قابل اعتراض چیز نہیں ملی لیکن حضور نے ارشاد فرمایا کہ آپ احکامات کی پیروی کریں اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو میں اخبار میں اعلان کرا دوں گا کہ یہ بالکل غلط ہے انہوں نے تلاشی نہیں لی۔چنانچہ انہوں نے حضور کے گھر کی تلاشی لی اور اسی روز صدرانجمن احمدیہ کے دفاتر کی تلاشی بھی لی گئی اور حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کو خبر ناموں کی بناء پر گرفتار کیا مگر پھر ضمانت لے کر رہا کر دیا۔دولتانہ صاحب تو مستعفی ہو چکے تھے۔اپنی تقریر میں سارا الزام عوام پر لگا کر گورنر چندریگر صاحب نے اپنی کرسی بچانے کی کوشش کی تھی لیکن ۲۲ اپریل کو گورنر جنرل پاکستان نے انہیں بر طرف کر کے امین الدین صاحب کو پنجاب کا گورنر مقرر کر دیا۔اور نئے گورنر صاحب نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے نام نوٹس واپس لینے کا اعلان کر دیا۔(۱۲۲-۱۲۳) فساد شروع کرنے والوں کا انجام: ۱۹۵۳ء کے فسادات کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمد یہ تو پہلے سے زیادہ تیز رفتاری سے ترقی کرتی رہی مگر اس شورش کو شروع کرنے والے عبرتناک انجام کو پہنچے مجلس احرار کا شیرازہ بکھر نے لگا۔اس کے لیڈر اپنے امیر شریعت عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب کو چھوڑ کر دوسری سیاسی جماعتوں میں شامل ہونے لگے۔جب عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب کو خبر ملی کہ اُن کے رفقاء اُن کا ساتھ چھوڑ گئے ہیں تو سر پکڑ کر بیٹھ گئے اور بار بار پنجابی کے دو ہے پڑھتے تھے جس کا مطلب تھا کہ جن کا دعویٰ تھا کہ ہم تیرے ساتھ مریں گے وہ لوگ میدان چھوڑ کر بھاگ گئے۔(۲۷) و ما يعدهم الشيطن الا غرورا (بنی اسرائیل (۶۵) شیطان جو وعدے بھی کرتا ہے فریب کی نیت سے ہی کرتا ہے۔عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب کو آخری عمر میں جب سب چھوڑ چھاڑ گئے تو وہ اکثر اپنی عبرتناک حالت کا ذکر بڑی حسرت سے کرتے تھے۔آخری عمر میں ایک بار ایک صحافی آپ کے پاس آیا تو دیکھا کہ ملتان میں ایک کچے سے مکان میں آپ کی رہائش ہے۔اُس نے پوچھا کہ اب جب کہ آپ اتنے بیمار ہیں، کیا کبھی آپ کو کبھی کوئی پوچھنے بھی آیا ہے؟ انہوں نے بڑی حسرت سے کہا، بیٹا جب تک یہ کتیا ( زبان ) بھونکتی تھی ،سارا برصغیر ہند و پاک ارادت مند تھا۔اس