سلسلہ احمدیہ — Page 32
32 32 صاحب کو چار ہزار کے قریب مسلمانوں کی تربیت کا کام شروع کرنا پڑا۔ایک طرف ان کے اخلاص کو دیکھ کر ان کا دل خوشی سے بھر جاتا تھا اور دوسری طرف ان میں اسلامی تربیت کا فقدان مشاہدہ کر کے ان کا دل رونے لگتا تھا۔بنیادی تربیت سے کام کا آغاز ہوا۔انہیں تلقین کی گئی کہ ستر ڈھانپ کر رکھیں اور اپنے بچوں کے چہروں کو روایت کے مطابق داغنے سے گریز کریں اور کسی کو گھٹنوں کے بل جھک کر سلام نہ کیا جائے۔یہ تھا وہ نقطہ آغاز جس سے گولڈ کوسٹ میں تبلیغ اور تربیت کے کام کا آغاز ہوا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اس قوم کے اندر اتنی اعلی صلاحیتیں رکھی ہوئی تھیں کہ جلد ہی یہاں کی جماعت دوسری جماعتوں کے لیئے ایک نمونہ بن گئی۔(۱) دسمبر ۱۹۲۲ء میں نیر صاحب نائیجیریا کے لیئے روانہ ہوئے۔اس مختصر قیام کے دوران مختلف مقامات پر جماعتیں قائم ہو چکی تھیں اور ان جماعتوں کا مرکز سالٹ پانڈ تھا۔جنوری ۱۹۲۲ء میں مکرم فضل الرحمن صاحب حکیم کو گولڈ کوسٹ کے لئے مبلغ بنا کر بھیجا گیا۔آپ نے سات سال گھانا میں فریضہ تبلیغ سرانجام دیا۔آپ کی کاوشوں۔مقامی معلمین تیار کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔سالٹ پانڈ کے مقام پر جماعت کا سکول کھلا اور اشانٹی کے علاقے میں جماعت کا قیام عمل میں آیا۔مولانافضل الرحمن صاحب حکیم کے بعد مولانا نذیر احمد صاحب علی کو مبلغ بنا کر گولڈ کوسٹ بھیجا گیا۔آپ نے اخبارات میں احمدیت کے متعلق مضامین چھپوانے کا سلسلہ شروع کیا اور اس طرح تبلیغ کا ایک نیا راستہ کھلا۔اس ملک کے معاشرے میں بہت سی مشرکانہ رسوم پائی جاتی تھیں جو احمدیوں کی تربیت میں بھی روک بنتی تھیں۔مولانا نذیر احمد صاحب علی نے ان کے خلاف ایک منظم جہاد شروع کیا۔اس دور میں گولڈ کوسٹ کے تمام تعلیمی ادارے عیسائیوں کے تسلط میں تھے اور اکثر میں بائیبل کی تعلیم دی جاتی تھی۔مولانا نذیر احمد علی صاحب نے جماعت کے مزید چار سکول کھولے اور اس طرح ان کی مجموعی تعداد پانچ ہوگئی۔ان سکولوں میں دنیاوی تعلیم کے علاوہ قرآن مجید اور دینی علوم کی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔چار سال کے بعد مولانا نذیر احمد صاحب علی کو واپس قادیان بلا لیا گیا اور ۱۹۳۳ء میں ایک مرتبہ پھر فضل الرحمن صاحب حکیم کو گولڈ کوسٹ میں مبلغ مقرر کیا گیا۔آپ نے اس دور میں اشانٹی کے کچھ احمدی مخلصین کے ساتھ کو اؤ ( Kwaw) کے علاقے کی طرف تبلیغی سفر کیا۔بعض مخلصین تو ایک ہفتہ پیدل سفر کر کے اس علاقے میں پہنچے۔ایک مجاہد یعقوب صاحب راستے میں نمونیہ ہو جانے کے