سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 31 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 31

31 ہی یہ پودا ایک تناور درخت بن جائے گا۔(۱تا۳) (۱) رپورٹ سالانہ صدرانجمن احمد یہ ۱۹۳۷ء۔۱۹۳۸ء ص۵۲ - ۵۵ (۲) رپورٹ سالانہ صدرانجمن احمد یہ ۱۹۳۸ء ۱۹۳۹ ، ص ۹۶ ۱۰۰ (۳) الفضل ۱۱۳ کتوبر ۱۹۴۸ء ص ۵ غانا ( گولڈ کوسٹ ) غانا بھی افریقہ کے مغربی ساحل پر واقع ہے۔۱۹۳۹ء میں یہ ملک برطانیہ کے قبضے میں تھا اور گولڈ کوسٹ کہلاتا تھا۔اسلام کے آغاز کے بعد یہاں سب سے پہلے خوارج پہنچے۔خوارج کے ایک فرقہ ابازی کے کچھ تاجر ۲۷۲ ھ میں یہاں آئے اور مقامی آبادی میں سے کچھ لوگوں نے اُن کے عقائد کی پیروی شروع کر دی۔اس کے علاوہ صحارا سے کچھ مسلمان تاجر جو مالکی مسلک سے تعلق رکھتے تھے یہاں کا روباری سفر پر آئے اور ان کی تبلیغ کے نتیجے میں یہاں کے باشندوں نے اسلام قبول کرنا شروع کیا۔مگر مغربی طاقتوں کے غلبہ کے ساتھ یہ علاقہ تقریباً سارے کا سارا عیسائی ہو گیا اور وہ تعلیم ، عہدوں اور تنظیم میں بھی مسلمانوں سے کہیں آگے نکل گئے۔جیسا کہ کتاب کے حصہ اول میں ذکر آچکا ہے یہاں پر حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب نیر کے ذریعہ احمدیت کا پیغام ۱۹۲۱ء میں پہنچا تھا۔گولڈ کوسٹ میں سالٹ پانڈ کے قریب فینٹی لوگوں میں چار ہزار مسلمان موجود تھے۔ان کے امیر مہدی نام کے ایک چیف تھے۔انہیں اسلام سے محبت تو تھی لیکن دینی علم نہ ہونے کے برابر تھا۔امیر مہدی کو خدشہ تھا کہ ان کے بعد ان کی قوم اسلام سے پیچھے نہ ہٹ جائے کیونکہ اس دور میں ہر طرف عیسائی مشنری پورے زور وشور سے اپنے مذہب کی تبلیغ کر رہے تھے۔ایک شامی تاجر نے انہیں حضرت مفتی محمد صادق صاحب کا پتہ دیا جو اس وقت لندن میں مقیم تھے۔چیف مہدی نے رقم جمع کر کے جماعت کے لندن مشن کو بھجوائی تا کہ ایک مبلغ اس علاقے میں اسلام کی تبلیغ کے لیے بھجوایا جائے۔دو برس کی تاخیر کے بعد جب حضرت مولا نانیر صاحب یہاں پہنچے اور امیر مہدی کے گاؤں اکر افول گئے تو بوڑھے امیر نے کہا خدا کا شکر ہے کہ آپ میری زندگی میں آگئے ، اب یہ مسلمان آپ کے سپرد ہیں۔اس طرح آمد کے فوراً بعد ہی حضرت مولا نا نیر