سلسلہ احمدیہ — Page 33
33 33 باعث شہید ہو گئے۔اس دورے میں ہزاروں لوگوں تک احمدیت کا پیغام پہنچایا گیا اور اس طرح کو اؤ کے علاقے میں جماعت قائم ہوئی۔۱۹۳۴ء میں حکیم فضل الرحمن صاحب کو نا یجیر یا بھجوا دیا گیا۔اور گولڈ کوسٹ کے لئے ایک بار پھر مولانا نذیر احمد صاحب علی اور سیالکوٹ کے ایک نوجوان مولانا نذیر احمد صاحب مبشر بھجوائے گئے۔یہ پہلی مرتبہ تھا کہ اس ملک میں بیک وقت دو مرکزی مبلغین کام کر رہے تھے۔ایک طرف تو تبلیغ کا دائرہ بڑھ رہا تھا اور دوسری طرف جماعت کی تربیت کی ضروریات میں دن بدن اضافہ ہور ہا تھا۔چناچہ اس بات کی اشد ضرورت تھی کہ بڑی تعداد میں مقامی مبلغین تیار کیئے جائیں۔مکرم مولانا نذیر احمد صاحب مبشر نے مقامی مبلغین کی تیاری کا کام شروع کیا۔احمدی ہونے والوں میں جب مثبت تبدیلیاں پیدا ہونے لگیں تو یہ بات بعض چیف صاحبان کو ناگوار گزری۔کیونکہ ان کی احمدی رعایا شریعت کی پابندی کرتے ہوئے نہ تو ان چیف صاحبان کے لیئے شراب اٹھاتی تھی اور نہ ہی خلاف شریعت دیگر رسومات میں شامل ہوتی تھی۔چنانچہ ابا کرامیہ کے چیف نے قسم کھائی کہ وہ اب اپنے علاقے میں احمدیت کی تبلیغ کی اجازت نہیں دے گا۔جب کچھ افسران کا دباؤ پڑا تو ان کو یہ قسم توڑنی پڑی۔لیکن پھر چیفس کی کونسل میں احمدیت کی تبلیغ کا مسئلہ دوبارہ اٹھایا گیا۔جب جماعت کے مبلغ نے جماعت کی تعلیمات وہاں پر بیان کیں تو ان کے تمام شبہات دور ہو گئے اور انہوں نے وعدہ کیا کہ اب احمد یوں کو تنگ نہیں کیا جائے گا۔۱۹۳۹ء میں بیرونِ ہند کی جماعتوں میں کئی لحاظ سے گولڈ کوسٹ کی جماعت کو ایک انفرادی مقام حاصل تھا۔یہاں پر جماعت کے سکولوں کی تعداد ے تھی۔اس وقت ہندوستان سے باہر کسی اور ملک میں جماعت کے اتنے تعلیمی ادارے کام نہیں کر رہے تھے۔ایگزیکٹیو کمیٹی کے نام سے مختلف سیکریٹریان کی ایک کمیٹی کام کر رہی تھی جو اپنے فرائض لگن سے ادا کر رہے تھے۔مقامی مبلغین کی ایک خاطر خواہ تعداد تیار ہو چکی تھی۔ان میں سے بہت سے کل وقتی طور پر جماعت کا مبلغ بن کر کام کر رہے تھے۔اور بسا اوقات پیدل لمبے لمبے سفر کر کے مختلف علاقوں میں پہنچ کر احمدیت کا پیغام پہنچاتے۔بعض سالوں میں ان کی تعدا دسترہ تک بھی پہنچ جاتی تھی۔اس کے علاوہ یہاں پر لجنہ کی تن کا آغاز ہو چکا تھا اور اس تنظیم کے ذریعہ احمدی عورتوں کی تربیت کا اہم کام کیا جا رہا تھا۔ایک تعلیم یافتہ احمدی خاتون سعیدہ بنت جمال خصوصیت سے احمدی خواتین کی تعلیم و تربیت میں فعال کردار ادا