سلسلہ احمدیہ — Page 341
341 کے وفد میں شامل تھے۔پہلے آئینگر صاحب نے تقریر شروع کی، جس کا خلاصہ یہ تھا کہ مہاراجہ کشمیر نے خود کشمیر کا الحاق پاکستان سے کیا تھا۔اور پاکستان نے قبائلیوں سے حملہ کرا کے خون خرابہ کیا اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی۔چنانچہ پاکستان کو چاہئیے کہ حملہ آوروں کو فوری طور پر واپس بلائے اور الحاق کے متعلق ہندوستان کا موقف یہ ہے کہ جہاں راجہ ایک مذہب کا ہو اور رعایا کی اکثریت دوسرے مذہب کی ہوایسی ریاست میں حکومت ہندوستان امن قائم ہونے کے بعد اس کا فیصلہ رعایا کی اکثریت کی رائے کے مطابق کرے گی۔بعد میں دوسرے سفارتکاروں نے اعتراف کیا کہ اس تقریر کے بعد اراکین کی اکثریت کا تاثر تھا کہ پاکستان نے آزادی کے فوراً بعد فساد کا راستہ اختیار کیا ہے اور اس طرح عالمی امن کے لئے ایک خطرہ پیدا کر دیا ہے۔اس کے بعد حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے جواب دینا شروع کیا۔تقریر کے آغاز میں آپ نے فرمایا کہ میری تقریر طویل ہو گی لیکن سلامتی کونسل کے اراکین کو تقسیم ہند کے تمام پس منظر سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔یہ تقریر تین اجلاسوں میں جاری رہی۔چوہدری صاحب نے پوری تفاصیل بیان فرمائیں کہ ہندوستانی نمائیندے نے عمداً اس قضیہ کے بہت سے پہلوؤں کو پس پردہ رہنے دیا ہے۔اور نہ صرف کشمیر بلکہ پنجاب اور کپورتھلہ میں ہونے والے اندوہناک واقعات بیان فرمائے۔اور پھر پورا پس منظر بیان فرمایا کہ کس طرح کشمیر میں بھی مسلمانوں کا قتلِ عام شروع کیا گیا اور پھر وہاں کے حالات بگڑتے بگڑتے یہاں تک پہنچے۔اور ان پیچیدہ تفاصیل سے ظاہر کیا کہ اس جھگڑے میں قصور حکومت ہندوستان کا بنتا ہے۔تقریر کے اختتام پر حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے فرمایا ' مجھے احساس ہے کہ میں نے اس مسئلہ پر سیکورٹی کونسل کا کافی شاید بہت زیادہ وقت لیا ہے۔مجھے کوئی شک نہیں کہ آپ یہ جان چکے ہیں کہ یہ ایک نہایت اہم مسئلہ ہے۔جس کا تعلق لاکھوں افراد کی زندگیوں سے ہے۔اس کے علاوہ اس کے بہت سے عواقب ہو سکتے ہیں۔سیکیورٹی کونسل ، پاکستان اور ہندوستان کے کندھوں پر ایک اہم اور سنگین ذمہ داری کا بوجھ ڈالا گیا ہے۔اگر میں نے ایک طویل سہ پہر کو ایک روز دو پہر سے پہلے اس ادارے کا وقت اس لئے لیا ہے تا کہ اس معاملے کے بارے میں اپنا نقطہ نظر