سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 342 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 342

342۔بیان کرسکوں، تو مجھے یقین ہے کہ مجھے قابلِ معافی سمجھا جائے گا۔اگر میں اکتاہٹ کا باعث بنا ہوں یا بعض مواقع پر ان تفاصیل میں گیا ہوں جو ممبران کونسل کے نزدیک اہم نہیں تھے تو میں یقین دلاتا ہوں کہ میں نے ایسا آپ کی معاونت کی روح کے ساتھ کیا ہے تا کہ اس صورتِ حال کے تمام عوامل سامنے آسکیں۔چوہدری صاحب کی تقریر کے بعد سیکیورٹی کونسل کے صدر نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بہت اہم فوری نوعیت کا اور پیچیدہ مسئلہ ہے اور اس پر فیصلہ کرتے ہوئے کچھ وقت لگ سکتا ، ہے۔اور دونوں حکومتوں سے اپیل کی کہ اگر صورتِ حال میں کوئی تبدیلی ہو تو کونسل کو مطلع کیا جائے۔اس کے بعد صدر سیکیورٹی کونسل نے ممبران کو تبصرہ کرنے کی دعوت دی۔اس کے جواب میں سب سے پہلے سوویت یونین کے نمائندے گرومیکو نے یہ عجیب تجویز پیش کی کہ اب اس معاملے کو اگلے اجلاس تک ملتوی کر دیا جائے۔جب صدر کونسل نے اس تجویز پر رائے شماری کرائی تو اس کے حق میں صرف سوویت یونین اور یوکرین کے ووٹ آئے۔اور اس طرح یہ تجویز مستر د ہو گئی۔یوکرین بھی عملاً سوویت یونین کا حصہ تھا۔سوویت یونین اس مسئلہ پر بھارت کا ساتھ دے رہا تھا اور ظاہر ہے کہ یہ تجویز اس کی ہمدردی میں اور اس کی مرضی کے مطابق پیش کی جارہی تھی۔یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جب بھارت کے نمائندے مسٹر آئینگر کی تقریر کے اختام پر حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے فرمایا تھا کہ اس تقریر میں اتنے مختلف نکات اٹھائے گئے ہیں کہ ان کا جواب دینے کے لئے انہیں کچھ وقت درکار ہوگا۔تو اس پر آئینگر صاحب نے کہا تھا کہ یہ معاملہ تو فوری نوعیت کا ہے اور کسی قسم کی تاخیر مناسب نہیں ہوگی۔اور اب چوہدری صاحب کی تقریر کے بعد اب بھارت کے اتحادی کوشش کر رہے تھے کہ فوری طور پر بحث شروع نہ کی جائے۔اگلے روز سلامتی کونسل کا اجلاس پیجیئم کے مندوب Langehove کی صدارت میں شروع ہوا اور انہوں نے ایک قرارداد کا مسودہ پیش کیا۔اس قرارداد میں ایک سہ رکنی کمیشن قائم کرنے کی تجویز پیش کی گئی جو سلامتی کونسل کی ہدایات کے تحت کشمیر جا کر تحقیقات کرے اور مفاہمت پیدا کرنے کی کوشش کرے اور سلامتی کونسل کو صحیح صورت حال سے مطلع کرے۔اور جب سلامتی کونسل یہ ہدایت دے تو یہ کمیشن پاکستان اور ہندوستان کے مابین دیگر اختلافات کے بارے