سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 326 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 326

326 کہ کشمیر کے مسلمان ایک دبی ہوئی غلامانہ حیثیت میں زندگی گزارنے لگے۔ان کی مدد کے لئے حضرت مصلح موعودؓ کی بے لوث کا وشوں کا ذکر کتاب کے حصہ اول میں آچکا ہے۔جب ہندوستان کی آزادی کا دن قریب آیا تو بہت سی ریاستوں کی طرح کشمیر بھی ایک دورا ہے پر کھڑا تھا۔ہندوستان کی خواہش تھی کہ کشمیر ہندوستان سے الحاق کا اعلان کرے اور پاکستان کا مؤقف تھا کہ کیونکہ کشمیر کی اکثریت مسلمان ہے اس لئے اسے پاکستان کا حصہ بننا چاہئیے۔مہاراجہ ہری سنگھ سے یہ امید کم ہی تھی کہ وہ کشمیریوں کی خواہش کو پیش نظر رکھ کر کوئی فیصلہ کریں گے۔انہوں نے فوری طور پر کسی فیصلے کا اعلان نہیں کیا۔لیکن اگست ۱۹۴۷ء کے شروع ہی سے کشمیر کے سیاسی منظر پر ہلچل نظر آنے لگی تھی۔یکم اگست سے گاندھی جی نے کشمیر کا تین روزہ دورہ شروع کیا۔اس کی وجہ انہوں نے یہ بیان کی کہ تمہیں سال قبل انہوں نے کشمیر کے مہاراجہ آنجہانی پرتاپ سنگھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ کشمیر آئیں گے۔اس وعدے کو پورا کرنے کے لئے وہ کشمیر جارہے ہیں۔اس کے معا بعد کشمیر کے وزیر اعظم رام چند کاک کو برطرف کر دیا گیا۔رام چند کاک پاکستان سے کشمیر کے الحاق کے لئے مسلم لیگ سے بات چیت کر رہے تھے۔ان کی جگہ جنگ سنگھ کو کشمیر کا وزیر اعظم مقرر کیا گیا۔جنگ سنگھ نسلاً کشمیری نہیں تھے ان کا تعلق ڈوگرہ راجپوتوں کے ہندو گھرانے سے تھا۔اُس وقت شیخ عبداللہ اور کشمیر نیشنل کانفرنس کے دیگر راہنما مہاراجہ کے خلاف تحریک چلانے کی پاداش میں جیل میں تھے۔نیشنل کانفرنس کا نگرس کی حامی تھی۔مہاراجہ کے حکم پر ان راہنماؤں کو رہا کر دیا گیا۔کشمیر مسلم کانفرنس کے راہنما ہندوستان سے الحاق کے مخالف تھے۔ان کی سزاؤں میں کسی تخفیف کا اعلان نہیں کیا گیا۔کل تک نیشنل کانفرنس والے مہاراجہ کو کشمیر سے نکالنے کی تحریک چلا رہے تھے۔اب وہ مہاراجہ بہادر کی جے اور جنرل جنگ سنگھ زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔لیکن بات سیاست کی بساط پر مہروں کو آگے پیچھے کرنے تک محدود نہ رہی۔ریاست میں متعصب ہندو تنظیم راشٹریہ سیوک سنگھ کے مسلح گروہ اور مسلح سکھ جتھوں کی سرگرمیاں واضح طور پر نظر آنے لگیں۔ریاست میں موجود مسلمان فوجیوں کو غیر مسلح کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا۔عام شہریوں کا اسلحہ ضبط کرلیا گیا۔مہاراجہ نے اپنے افسر نیپال تک بھجوا دیئے تا کہ وہاں سے گورکھا سپاہی بھرتی کئے جائیں۔مہاراجہ کشمیر نے ریاست پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لئے دورے شروع کئے۔اور مہاراجہ کے لئے جلسوں کا