سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 327 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 327

327 اہتمام کیا گیا۔پونچھ کے علاقے میں جلسہ ہوا تو وہاں کے مسلمانوں نے مہاراجہ کی خدمت میں درخواست کی کہ کشمیر کا الحاق پاکستان سے کر دیا جائے۔اب یہ آوازیں ریاست کے مختلف مقامات سے اٹھ رہی تھیں۔ان کو دبانے کے لئے فوجی قوت کا سہارا لیا گیا۔ڈوگرہ فوجیوں اور راشٹریہ سیوک سنگھ کے کارکنوں اور سکھ جتھوں نے ریاست میں داخل ہونا شروع کیا۔مغربی پاکستان سے جو سکھ اور ہندو پناہ گزیں کشمیر میں داخل ہو رہے تھے انہیں مسلح کرنے کے عمل کا آغاز کر دیا گیا۔اور اس کے برعکس حکومت کشمیر نے کئی علاقوں میں مسلمانوں کو ہدایت دی کہ وہ اپنا لائسنس والا اسلحہ بھی حکومت کے پاس جمع کرا دیں۔اور اسی پر بس نہیں کی گئی بلکہ کشمیر کی فوج کے مسلمانوں کو بھی غیر مسلح کر دیا گیا (۲)۔پونچھ ، میر پور اور دوسرے علاقوں میں مسلمانوں کی قتل و غارت شروع کر دی۔بے قصور مسلمانوں کو بے دریغ قتل کیا گیا۔عورتوں کی عصمت دری کی گئی مسلمانوں کے گھر نذر آتش کئے گئے۔بہت سے مسلمان دیہات کو جلا کر خاکستر کر دیا گیا۔جو مسلمان پاکستان جانا چاہتے ان کو بحافظت پاکستان جانے دیا جاتا لیکن جو اپنے گھروں میں رہنا چاہتے ان کو ہر قسم کے ظلم وستم کا نشانہ بنایا جاتا۔پاکستان کے علاقے سے جلنے والے دیہات نظر آ رہے تھے۔تحصیل باغ میں ایک جگہ مسلمان جلسے کے لئے جمع ہوئے تو ڈوگرہ فوج نے نہتے شہریوں پر فائر کھول دیا۔دیکھتے دیکھتے بے شمار شہریوں کو اپنے خون میں نہلا دیا گیا۔پاکستان کی سرحد پر دیہات کو جبراً خالی کرانے کا عمل شروع کیا گیا۔کشمیر میں بہت سے مقامات پر احمدی آباد تھے۔جب کشمیر پر یہ قیامت گزر رہی تھی تو یہ امرسب احمدیوں کے لئے تشویش کا باعث بن رہا تھا۔پونچھ کے علاقے میں پچاس ہزار سے زائد مسلمان دوسری جنگِ عظیم کے دوران فوج میں کام کر چکے تھے۔انہوں نے عورتوں اور بچوں کو پاکستان بھجوایا اور خود قبائلی علاقے سے اسلحہ حاصل کر کے اپنا مسلح دفاع شروع کر دیا۔اور دیکھتے دیکھتے پونچھ اور میر پور کے اکثر علاقے ریاستی حکومت کے ہاتھ سے نکل گئے۔(۳ تا ۶ ) دوسری طرف جونا گڑھ کی ریاست میں بھی حالات تیزی سے بدل رہے تھے۔جونا گڑھ کے نواب مسلمان تھے اور یہاں کے لوگوں کی اکثریت ہندو تھی۔جونا گڑھ ایک ساحلی ریاست تھی جس کے اردگرد ہندوستان کا علاقہ تھا۔اور پاکستان سے اس کا رابطہ سمندر کے ذریعہ ہی ہوسکتا تھا۔آزادی