سلسلہ احمدیہ — Page 325
325 مسئلہ ایک خاص اہمیت رکھتا تھا۔ان کے علاوہ کپورتھلہ نے بھی ہندوستان سے الحاق کر لیا تھا۔اگر چہ اس کی ۶۴ فیصد آبادی مسلمان تھی اور یہ ریاست مسلم اکثریت والے علاقوں کے ذریعہ پاکستان سے ملحق بھی تھی مگر اس کے حکمران مسلمان نہیں تھے۔یہ ظلم صرف یہاں تک محدود نہیں رہا بلکہ جلد ہی انتہا پسند سکھوں اور ھندوؤں کے مسلح جتھے ، ریاستی حکمرانوں کے تعاون سے ریاست میں داخل ہونا شروع ہوئے اور مسلمانوں کے خون کی ہولی شروع ہو گئی۔دیکھتے دیکھتے مشرقی پنجاب کی طرح کپورتھلہ سے بھی مسلمانوں کی صف لپیٹ دی گئی۔جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی وہاں اب دیکھنے کو بھی مسلمان نہیں ملتا تھا۔دیگر مسلمانوں کی طرح کپورتھلہ کے احمدیوں کو بھی اس قیامت کا سامنا کرنا پڑا۔کشمیر کی ریاست کی اکثریت بھی مسلمان تھی مگر اس کے راجہ ہندو تھے۔کشمیر کا علاقہ پاکستان سے ملحق تھا مگر جب باؤنڈری کمیشن نے ضلع گورداسپور کے مسلم اکثریت والے علاقے ہندوستان کے حوالے کئے تو ہندوستان کو بھی کشمیر تک رسائی حاصل ہوگئی۔اس کے برعکس آزادی کے دن تک پاکستان کے علاقے میں واقع مسلم اکثریت والی ۱۴ ریاستوں میں سے کسی ایک نے بھی پاکستان سے الحاق کا اعلان نہیں کیا تھا۔(۱) قوموں کی تاریخ میں بسا اوقات ایک غلطی دوسری غلطی کو جنم دیتی ہے اور ایک ظلم دوسرے ظلم کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔کشمیر کا المیہ ایک ایسی ہی کہانی ہے۔مارچ ۱۸۴۶ء سے قبل ،کشمیر سکھوں کی سلطنت کا ایک صوبہ تھا۔جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے سکھوں کو شکست دی تو باقی علاقے کو تو اپنے انتظام میں لے لیا لیکن کشمیر کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔آج یہ بات نا قابل یقین لگتی ہے لیکن اس وقت حقیقت میں کشمیر کے ساتھ یہی سلوک کیا گیا تھا۔ہندو ڈوگرہ راجہ گلاب سنگھ سکھ سلطنت کے ایک اہم ستون تھے۔اور کشمیر پر بطور گورنر کام کر رہے تھے۔انگریزوں نے ڈیڑھ لاکھ پونڈ کے عوض کشمیر اور گلگت کا علاقہ ان کے ہاتھ فروخت کر دیا۔اور اس طرح سلطنت برطانیہ کی سر پرستی میں رہتے ہوئے راجہ گلاب سنگھ کو کشمیر کا حکمران تسلیم کر لیا گیا۔کمپنی بہادر کو ڈیڑھ لاکھ پونڈ ملے راجہ گلاب سنگھ کے ہاتھ کشمیر کی حکومت آئی اور کشمیر کے عوام آج تک اس سودے بازی کی قیمت چکا رہے ہیں۔کشمیر کی اکثریت مسلمان ہے۔ان کے حکمران نسلاً اور مذہباً کشمیریوں سے بالکل مختلف تھے۔کشمیر کے نئے حکمرانوں کی ترجیحات میں رعایا کے فلاح و بہبود کے لئے کوئی جگہ نہیں تھی۔نتیجہ یہ نکلا