سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 309 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 309

309 اقلیت بن کر نہیں رہنا ہو گا مگر عربوں کو یہودی ریاست میں اقلیت بن کر رہنا ہوگا۔اگر ان میں سے ایک حل انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہے تو دوسرا حل بھی انصاف کے مطابق نہیں ہے۔اگر ان میں سے ایک مسئلے کا حل نہیں کہلا سکتا تو پھر دوسرا بھی مسئلے کا حل نہیں کہلا سکتا۔اب ہمیں ایک لمحے کے لئے متعین سرحدوں کا جائزہ لینے دیں۔یہودیوں کی آبادی ۳۳ فیصد اور عربوں کی آبادی ۶۷ فیصد ہے مگر فلسطین کا ۶۰ فیصد رقبہ یہودیوں کی ریاست میں شامل کیا جائے گا۔اس علاقے کی کیفیت کیا ہے۔ایک لمحے کے لئے ہم صحراء کو جس کا ذکر میں بعد میں کروں گا، نظر انداز کرتے ہیں۔قابل کاشت اراضی میں سے موٹے طور پر میدانی علاقہ یہودیوں کو پہاڑی علاقہ عربوں کو دیا گیا ہے۔برطانیہ کے نمائندے کی طرف سے نمائندگان کمیٹی کو ایک دستاویز بھجوائی گئی تھی۔اس کے مطابق جس زمین کو پانی مہیا ہے اور جو قابل کاشت ہے اس کا ۸۴ فیصد یہودیوں کی ریاست کو جائے گا اور ۱۶ فیصد عربوں کی ریاست کو جائے گا۔کیا ہی منصفانہ تقسیم ہے ایک تہائی آبادی کو ۸۶ فیصد رقبہ ملے گا اور دو تہائی آبادی کو ۱۶ فیصد رقبہ ملے گا۔اس کے بعد چوہدری صاحب نے زراعتی درآمدات اور دیگر حقائق بیان کر کے ثابت کیا کہ کس طرح یہ تقسیم نہ صرف غیر قانونی بلکہ اقتصادی لحاظ سے بھی نہایت غیر مصنفانہ ہے۔آپ نے صنعتی اعداد و شمار بیان فرمائے کہ کس طرح مجوزہ تقسیم میں جن صنعتوں کے مالک یہودی ہیں تقریباً ساری کی ساری یہودیوں کی ریاست میں شامل کی گئی ہیں، جبکہ عربوں کی صنعتوں میں سے بھی چالیس فیصد حصہ یہودیوں کی ریاست میں شامل کر دیا گیا ہے۔اپنی اس معرکۃ الآراء تقریر کے اختتام پر آپ نے فرمایا آج اگر ہم اپنے ووٹوں سے تقسیم کی تائید نہ کریں تو اس مسئلے کو حل کرنے کے باقی راستے بند نہیں ہو جاتے۔لیکن اگر آج ہم اپنے ووٹوں سے تقسیم کو منظور کر لیں تو پر امن حل کی تمام امیدیں ختم ہو جاتی ہیں۔جو اس کی ذمہ داری لینا چاہتا ہے اسے ایسا کرنے دیں۔میری آپ سے یہ اپیل ہے کہ اس امید کو ختم نہ کریں۔اقوام متحدہ کو تو چاہیے کہ