سلسلہ احمدیہ — Page 310
310 لوگوں کو متحد کرنے اور یکجا کرنے کے کے راستے ڈھونڈے ، نہ کہ ان کو تقسیم کر کے علیحدہ کرے۔یونائیٹڈ اسٹیٹس کے نمائندے نے میری اُس دعا اور خواہش کا ذکر کیا تھا جس کا اظہار میں نے ایڈ ہاک کمیٹی میں اپنی تقریر کے اختتام پر کیا تھا۔میں اب پھر اس دعا کو عاجزی، خلوص اور آرزو سے دہراتا ہوں۔وہ جو سب دلوں پر اختیار رکھتا ہے، وہ جو دلوں کے پوشیدہ خیالات اور منصوبوں کو جانتا ہے۔وہی ہے جو ہر چیز کی صحیح قدرو قیمت کو جانتا اور انسانوں کے اعمال کے نتائج سے باخبر ہے۔ہمیں اپنے فضل سے آج ایسا فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے جس سے امن اور خوشحالی پیدا ہو۔اس کی سب مخلوق کا بھلا ہو۔اسرائیلی ،عرب، غیر اسرائیلی سب اس کی شانِ کبریائی سے فیض پاتے رہیں۔آخر دعــونــا الحمد لله رب العلمين - یہ تو خلاصہ ہے۔اور بہر حال ترجمہ میں اصل تقریر کی شوکت پوری طرح ظاہر نہیں ہوتی۔لیکن یہ خطاب ایک تقریر سے زیادہ ایک تازیانہ تھا۔اس کے دلائل، اس کا زور دار انداز بیان، اس کا ربط اور اس میں بیان کردہ بے باک تجزیہ ایسے نہیں تھے جنہیں نظر انداز کر دیا جاتا۔اور جس طرح چند سال بعد ہی پاکستان میں حضرت چوہدری صاحب کے خلاف تحریک چلائی گئی یا چلوائی گئی ، اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس تازیانے کو بھلایا نہیں گیا تھا۔حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے بعد چین کے نمائندے نے غیر جانبدار رہنے کا اعلان کیا اور پھر گوئٹے مالا کے مندوب نے تقسیم کی حمایت کا اعلان کیا۔اور عربوں کو الزام دیا کہ ان کے دلوں میں یہودیوں کے خلاف بہت نفرت پیدا ہو چکی ہے اور مسلسل پروپیگینڈا کے نتیجے میں وہ اب یہودیوں کو برداشت کرنے کو تیار نہیں۔اس کے بعد کیوبا کے نمائندے کو بلایا گیا۔کیوبا کے نمائندے نے تقسیم کی تجویز کے خلاف ایک جاندار تقریر کی اور کہا کہ ان کی حکومت اس لئے اس تجویز کی مخالفت کر رہی ہے کیونکہ یہ نہ قانونی تقاضوں کے مطابق ہے اور نہ ہی منصفانہ ہے۔بالفور اعلانیہ اور لیگ آف نیشنز کے اعلانات تقسیم کی دلیل نہیں بن سکتے۔کیونکہ حکومت برطانیہ یا لیگ آف نیشنز فلسطین کے مالک نہیں تھے کہ ان کا فیصلہ قبول کیا جائے۔فلسطین کے مستقبل کا فیصلہ فلسطین کے