سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 308 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 308

308 عارضی نہیں ہوگا۔یہ صورت حال مستقل رہے گی۔فلسطین کبھی بھی اپنے باشندوں کی ملکیت نہیں بن سکے گا۔یہ ہمیشہ کے لئے مصلوب رہے گا۔اقوام متحدہ کو یہ قدم اُٹھانے کا کیا حق حاصل ہے۔کون سا جائز حق ؟ کون سا قانونی حق حاصل ہے؟ کہ ایک آزاد ملک کو ہمیشہ کے لئے اقوام متحدہ کا غلام بنا دیا جائے؟“ امریکہ کے نمائندے کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایا یونائیٹڈ اسٹیٹس کے نمائندے نے کہا ہے کہ اس مسئلہ کی کوئی نظیر نہیں موجود۔ظاہر ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ اس کا پہلے سے اندازہ نہیں تھا اس لئے چارٹر میں اس کی گنجائش نہیں رکھی گئی۔مگر کیا وہ خیال کرتے ہیں کہ اگر اٹھتیں ممالک اس تقسیم کو تسلیم کر لیں تو یہ از خود ایک قانون بن جائے گا۔یونائیٹڈ اسٹیٹس کے اس بیان کی جو پہلے کمیٹی میں اور پھر پریس کو دیا گیا کیا اہمیت ہے؟ کیا اس کی یہ اہمیت نہیں ہے کہ یہ سکیم اپنے اندر کوئی قانونی ، منصفانہ اور آئینی جواز نہیں رکھتی۔اور آپ کو اس سکیم کو ایک سکیم کے طور پر منظور کرنا ہوگا۔آپ نے اس سکیم کی انتظامی تفصیلات کا جائزہ بیان کر کے اُن پر تنقید کی اور ان کا نا قابلِ عمل اور غیر منصفانہ ہونا ثابت فرمایا۔اس کے بعد آپ نے فرمایا د فلسطین میں تیرہ لاکھ عرب اور ساڑھے چھ لاکھ یہودی موجود ہیں۔اور مزید یہودیوں کے لئے جگہ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔اس مسئلہ کا حل نظر نہیں آرہا تو کہا جا رہا ہے کہ ہمیں فلسطین کی تقسیم کرنے دو کیونکہ یہ انصاف سے بعید ہو گا اگر تنیس فیصد یہودیوں کو، جو آج فلسطین میں یہود کی آبادی ہے، ایک متحدہ ریاست میں ایک اقلیت کی حیثیت سے رہنا پڑے۔تو اب ہم ایک منصفانہ حل بتاتے ہیں۔عربوں کو اُن کی ریاست ملے گی اور یہودیوں کو اُن کی ریاست ملے گی۔اور اس کے مطابق سرحد کھینچی جائے گی۔عرب ریاست تو ان معنوں میں عرب ریاست ہوگی کہ اس میں صرف دس ہزار یہودی اور تقریباً دس لاکھ عرب ہوں گے۔بہت خوب اب دیکھتے ہیں کہ یہودی ریاست کیسی ہوگی؟ اس میں ۴۶۵۰۰۰ یہودی اور ۴۳۵۰۰۰ عرب ہوں گے۔یہودیوں کو عرب ریاست میں