سلسلہ احمدیہ — Page 271
271 موودی صاحب اس بات کا اظہار کر چکے تھے کہ ہزار میں سے ۹۹۹ مسلمان صرف نام کے مسلمان ہیں۔ان کی زندگیوں میں اسلام کا کوئی دخل نہیں اب پاکستان بن جانے کے بعد مودودی صاحب یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ مسلمانوں میں اسلامی زندگی رائج کرنے کے لئے اور اسلامی معاشرے کے قیام کے لئے حکومت اپنے وسائل اور اپنی طاقت استعمال کرے۔اور مودودی صاحب کو اس کی کوئی وجہ نہیں نظر آتی تھی کہ یہ کام ریاست اور حکومت کے علاوہ اور کوئی کرے۔اور اسی تقریر میں انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ اسلامی زندگی کی تعمیر میں پہلا قدم یہ ہونا چاہیے دستور ساز اسمبلی اس ضمن میں قانون سازی کرے کہ ملک میں شریعت خداوندی نافذ ہوگی۔اور دوسری طرف قائد اعظم یہ اعلان کر رہے تھے کہ آپ کا جو بھی عقیدہ ہے یہ آپ کا ذاتی معاملہ ہے ریاست کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔شروع سے آخر تک قرآن کریم پڑھ جائیں سب سے زیادہ زور ایمان اور تقویٰ پر ملے گا۔اور عقل بھی یہی تجویز کرتی ہے کہ جب تک لوگوں کی دلوں میں ایمان اور تقویٰ نہیں ہوگا ، اگر اُن سے زبر دستی زکوۃ لے لی بھی جائے یا اسلامی تعزیرات نافذ کر دی جائیں تو بھی اسلامی معاشرہ قائم نہیں ہو سکتا۔اگر مودودی صاحب کی بات مان بھی لی جائے تو کیا حکومت یا ریاست اپنے وسائل اور اس کی طاقت استعمال کر کے لوگوں کے دلوں میں ایمان پیدا کریں گے؟۔کیا حکومت کا یہ کام ہوگا کہ لوگوں کی ذاتی زندگیوں پر نظر رکھ کر اسے اپنے زعم میں اسلامی نظریات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔ان کے دلوں میں ایمان اور تقویٰ پیدا کرے۔اگر ایسا ہے اور مودودی صاحب کی تحریروں اور تقریروں سے ایسا ہی لگتا ہے تو مودودی صاحب کی اسلامی ریاست کا نظریہ ریاست کے اُس نظریے سے ملتا ہے جو مشہور مصنف جارج آرول (George Orwell) نے اپنے ناول 1984 میں ایک تمثیلی ناول کی صورت میں پیش کیا تھا۔اس ناول میں ایک ایسی حکومت دکھائی گئی ہے جو ایک مخصوص گروہ کے ہاتھوں میں ہے۔یہ حکومت صرف لوگوں کے جسموں پر اپنا تسلط قائم نہیں کرتی اور ان کی زندگی کے معلومات کو اپنے کنٹرول میں نہیں رکھتی بلکہ جبراً ، تشدد کے ذریعہ، مسلسل جھوٹ بول کر ان کے ذہنوں کو بھی ماؤف کر دیتی ہے اور انہیں اپنا ہم نوا بنا لیتی ہے۔اگر کوئی ڈکشنری بنتی ہے تو حکومت کی پالیسی کے مطابق ،شادی ہوتی ہے تو حکومت کی رضا سے جنتی کہ چوبیس گھنٹے لوگوں کے گھروں میں بھی ایک کیمرہ کے ذریعہ اُن کی نگرانی ہوتی ہے۔اس حکومت