سلسلہ احمدیہ — Page 270
270 کے بعد اس میں اسلامی نظام نافذ ہوگا بلکہ وہ اسے اس مقصد کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے۔اب انہوں نے اور ان جیسے علماء نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ پاکستان تو بنا ہی اس لئے تھا کہ یہاں پر نظام اسلامی کا نفاذ کیا جا سکے۔جب کہ آزادی سے پہلے وہ اس بات کا ماتم کر رہے تھے کہ تحریک پاکستان کے ذمہ دار قائدین نے تو کبھی یہ کہا ہی نہیں کہ نئی مملکت میں اسلام کا نظام نافذ کیا جائے گا۔یہ بات قابل توجہ ہے اور مندرجہ بالا حوالوں سے واضح ہو جاتی ہے کہ جب بانی پاکستان کہتے تھے کہ پاکستان کی قانون سازی اسلامی اصولوں پر کی جائے گی اور جب مودودی صاحب نظام اسلامی کی اصطلاح استعمال کرتے تھے تو دونوں کے مطالب میں بہت فرق ہوتا تھا۔بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ سوائے ظاہری الفاظ کے ہمیں ان میں کوئی چیز قد رمشترک نہیں نظر آتی۔چنانچہ پاکستان کے قیام کے معاً بعد جماعت اسلامی نے پاکستان میں اسلامی دستور کا نام لے کر اپنی سیاسی طبع آزمائی کا آغاز کیا۔اور دستور بنانے کے مسئلہ پر ریڈیو پر مذاکرے ہو رہے تھے تو مودودی صاحب کو بھی اس میں اظہار خیال کی دعوت دی گئی۔پھر لاء کالج میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ جب پاکستان اسلام کے نام سے اور اسلام کے لئے مانگا گیا ہے اور اسی بنا پر ہماری یہ یہ مستقل ریاست قائم ہوئی ہے تو ہماری اس ریاست ہی کو وہ معمار طاقت بننا چاہیے جو اسلامی زندگی کی تعمیر کرے۔اور جب کہ یہ ریاست ہماری اپنی ریاست ہے اور ہم اپنے تمام قومی ذرائع وسائل اس کے سپر د کر رہے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس تعمیر کے لئے کہیں اور سے معمار فراہم کریں۔(۱۶) اس طرح روز اول سے مودودی صاحب کے خیالات ان نظریات کے بالکل برعکس تھے جو حضرت مصلح موعودؓ نے پیش فرمائے تھے۔جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا تھا کہ اسلام نے سب سے زیادہ زور قلبی اصلاح اور انفرادی اصلاح پر دیا ہے۔جب تک کسی ملک کے لوگ اپنی اپنی زندگیوں میں اسلامی احکامات پر عمل شروع نہیں کرتے اسلامی آئین کا مطالبہ ایک سنجیدہ مطالبہ نہیں کہلا سکتا اور ظاہر ہے کہ یہ مقصد حکومت کی کاوشوں سے حاصل نہیں ہوسکتا۔اس کے لئے وعظ ونصیحت اور دلوں کی تطہیر ضروری ہے۔اور اگر لوگ اپنی اپنی زندگیوں میں انقلاب لا کر اسلامی احکامات پر عمل شروع کر دیں تو پھر حقیقی طور پر اسلامی آئین نافذ ہوگا۔دوسری طرف