سلسلہ احمدیہ — Page 205
205 کی طرح قادیان بھی مکمل طور پر خالی کر دیا جائے گا اور قادیان کے مقدس مقامات ان مفسدوں کے حوالے کر دیئے جائیں گے۔چنانچہ احمدیوں کی قوت مدافعت توڑنے کے لئے ایک علیحدہ طریقہ کار اپنایا گیا۔ایک طرف تو فوج نے خواتین اور بچوں کے قافلے بھجوانے کے راستے میں بے جا روکیں ڈالنی شروع کیں اور دوسری طرف ۲۱ ستمبر کو قادیان میں کرفیو گا دیا گیا۔شروع میں یہ کرفیو شام سے صبح تک تھا مگر پھر اس کا دورانیہ بڑھا دیا گیا۔کرفیو کا اطلاق صرف مسلمانوں پر تھا۔اردگرد دیہات کے سکھ غنڈے کرفیو کے دوران آزادانہ طور پر قادیان کی گلیوں میں گھومتے پھرتے نظر آتے۔ہزاروں مسلمان پناہ گزیں اردگرد کے دیہات سے آکر کھلے آسمان کے نیچے پڑے تھے یہ ظالم موقع ملنے پر ان کے اموال لوٹ لیتے اور ان کی عورتوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بناتے۔جب تشدد کا کوئی نیا کارنامہ سرانجام دینا ہوتا تو کرفیو کی گھنٹی بجادی جاتی تاکہ کوئی جوابی کا روائی بھی نہ ہو سکے۔(۱۹) حکومتی اداروں سے اپیل: جماعت کی طرف سے حکومتی اداروں کو اس ظلم کی طرف توجہ دلانے کی ہر ممکنہ کوشش کی جارہی تھی۔ڈپٹی کمشنر اور ہوم منسٹر کو سارے حالات لکھے گئے لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ( ۲۰ )۔جماعت کا وفد صوبے کے وزیر اعظم اور ہوم منسٹر سے ملا انہوں نے بجائے بلوائیوں کو قابو کرنے کے الزام لگایا کہ احمدیوں نے قادیان کے قریب مہارا نامی گاؤں پر حملہ کر کے کچھ سکھوں کو مار ڈالا ہے۔حالانکہ اس نام کا گاؤں اس علاقے میں تھا ہی نہیں۔اور نہ ہی احمدیوں نے کہیں حملہ کیا تھا۔وہ تو صرف اپنا جائز دفاع کر رہے تھے (۲۱ تا ۲۳) گاندھی جی کی طرف سے بیانات شائع ہو رہے تھے کہ ہندوستان سے مسلمانوں کو نہیں جانا چاہئیے۔جماعت نے اس بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے اپیل کی کہ مشرقی پنجاب میں رہنے والے احمدی اپنی جگہوں پر رہنا چاہتے ہیں اور گاندھی جی کی توجہ قادیان میں محصور احمدیوں اور دیگر مسلمانوں کی حالت کی طرف مبذول کرائی جن کی زندگیاں خطرے میں تھیں۔اور انہیں تفصیلی رپورٹ بھی بھجوائی گئی۔گاندھی جی کے نام یہ اپیل غیر از جماعت اخبارات نے بھی شائع کی۔لیکن حسب سابق مصلحت آمیز خاموشی کے علاوہ کوئی جواب نہ ملا۔(۲۲)