سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 206 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 206

206 قادیان پر بڑے حملے کی تیاری: اب یہ نظر آ رہا تھا کہ مفسدوں کی طرف سے کسی بڑے حملے کے لئے تیاری کی جارہی ہے۔فوج نے بجائے بلوائیوں کو لگام دینے کے احمدیوں کو ہی جائز اسلحہ سے محروم کرنا شروع کر دیا۔۲۲ ستمبر کو فوج نے حضور کے مکانات ، دفاتر ، دارا اسی کے دیگر مکانات اور دوسرے دفاتر کی تلاشی لی اور جو لائسنس والا اسلحہ ملا اسے بھی اپنے قبضہ میں لے لیا۔ٹرنکوں کے قفل تو ڑ کر اور فرش کھود کر بھی تسلی کی کہ یہاں کچھ چھپایا تو نہیں گیا۔اس دن یہ خبر بھی ملی کہ امیر مقامی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو گرفتار کرنے کا منصوبہ ہے۔۲۳ ستمبر کو حضرت مصلح موعودؓ نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو لاہور بلالیا اور حضرت مرزا عزیز احمد صاحب امیر مقامی مقرر ہوئے۔اگلے چند روز پولیس نے قادیان کے ایسے کئی مکانات کی تلاشی لی جن میں پناہ گزیں ٹہرے ہوئے تھے اور ان کی بہت سی قیمتی اشیاء غصب کرلیں اور فوج نے یہ کارنامہ کیا کہ حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی کوٹھی پر قبضہ کر لیا۔چوہدری صاحب اس وقت اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائیندگی کر رہے تھے ، جب یہ خبر وہاں پہنچی تو اس سے ہندوستانی حکومت کی بہت بدنامی ہوئی۔اس پر پنڈت جواہر لال نہرو صاحب کی بہن وجے لکشمی پنڈت نے بھی اپنے بھائی کو احتجاجی تار دی۔۲۷ ستمبر کا دن مویشیوں کی لوٹ کے لئے مخصوص کیا گیا۔اس روز سکھ جتھوں نے پولیس کی مدد سے پناہ گزینوں اور قادیان کے احمدیوں کے تقریباً ۲۵ ہزار مویشی لوٹے۔۲۹ ستمبر کو قادیان کے مشرقی محلہ دارالا نوار کے بہت سے مکانات سے سامان لوٹا گیا۔پھر فوج نے حضور کا ایک گھر دار الحمد خالی کرالیا ، اگر چہ حضور کے بیٹے اس وقت قادیان میں موجود تھے۔اب تقریباً سارا علاقہ مسلمانوں سے خالی ہو چکا تھا جو مسلمان پاکستان نہیں جا سکے تھے وہ پناہ گزیں کیمپوں میں پڑے ہر قسم کے مظالم کا نشانہ بن رہے تھے۔ایسی صورت میں باوجود فوج اور پولیس کے مظالم کے اور بے سروسامانی کے ایک قادیان میں ہی احمدی اپنے مقدس مقامات کا دفاع کر رہے تھے۔اس موقع پر غیر از جماعت اخبار بھی جماعت کی ہمت کی داد تو دے رہے تھے لیکن اس کے ساتھ یہ بھی لکھ رہے تھے کہ یہ جد و جہد لا حاصل ہے۔دشمن اب قادیان کو تباہ کر کے ہی رہے گا، ان حالات میں قادیان کا دفاع نہیں کیا جا سکتا۔اس لئے احمدیوں کو وہاں سے