سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 200 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 200

200 گرانی ہو۔۔۔۔قادیان سے واقف احباب اس کی صفائی اور نفاست تعمیر سے کما حقہ آگاہ ہوں گے۔لیکن پناہ گزینوں کی کثرت سے یوں معلوم ہوتا تھا جیسے میدانِ حشر ہے۔‘‘(۹) قادیان سے بچوں اور عورتوں کا انخلاء: اب یہ صاف طور پر نظر آرہا تھا کہ فوج اور پولیس بلوائیوں کی کھلم کھلا مد دکر رہی ہے۔قادیان کے ارد گرد دیہات میں چھ سو کے قریب مسلمان عورتوں کو اغوا کیا جا چکا تھا۔عورتوں اور بچوں کو پاکستان منتقل کرنے کا فیصلہ تو پہلے ہی ہو چکا تھا اور اس پر عمل درآمد کا آغاز بھی کیا جا چکا تھا۔اب اس بات کی ضرورت تھی کہ اس عمل کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔چنانچہ حضور نے ۱۲ستمبر کے خطبہ جمعہ میں فرمایا کہ قادیان میں آٹھ نو ہزار کے قریب عورتیں اور بچے محصور ہیں۔جن کو جلد وہاں سے نکالنے کی ضرورت ہے۔ان کو وہاں پر غذا کی قلت کا سامنا ہے۔اور بعض عورتیں تو ایسی دلیر ہیں کہ وہاں سے نکلنے سے انکار کر دیتی ہیں مگر چونکہ کئی عورتیں قادیان سے نکل چکی ہیں ، یہ دیکھ کر بہت سی عورتیں گبھرا رہی ہیں۔اس وقت ان کو وہاں سے نکالنے کے لئے کم از کم دوسوٹرکوں کی ضرورت ہے۔حضور نے تحریک فرمائی کہ سب احمدی اپنے طور پر ٹرکوں کے حصول کی کوشش کریں۔چونکہ فوج کے افسران کو با آسانی حکومت کی طرف سے اس غرض کے لئے ٹرک مل جاتے ہیں، اس لئے وہ اس غرض کے لئے خاص طور پر کوشش کریں۔اور ٹرک ملنے کی صورت میں جماعت سے رابطہ کریں تا کہ ان عورتوں اور بچوں کو بحافظت قادیان سے پاکستان منتقل کیا جا سکے۔ان ہزاروں عورتوں اور بچوں کو بحافظت نکال کر لے آنا کوئی معمولی کام نہ تھا۔تمام راستوں پر بلوائیوں کا راج تھا۔ایک ایک قافلے میں ہزار سے زائد افراد کو بے رحمی سے موت کے گھاٹ اتارا جا رہا تھا۔اس قیامت میں قادیان سے آٹھ ہزار عورتوں اور بچوں کا بحفاظت لاہور منتقل کیا جانا، حضرت مصلح موعود کا ایک عظیم الشان کارنامہ ہے۔سب سے پہلے تو اس مقصد کے لئے ٹرکوں کا انتظام کرنے کا عمل شروع کیا گیا۔احباب جماعت نے حضور کی تحریک کے مطابق اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔اور پھر ان قافلوں کے لئے مسلمان ملٹری کی حفاظت کے انتظامات کئے گئے ، ان میں احمدی جوان اور افسران بھی شامل ہوتے۔جماعت کی طرف سے حفاظت کے انتظامات اس کے علاوہ تھے۔اس کے علاوہ ان قافلوں کو راستے کے تمام