سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 201 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 201

201 خطرات اور سازشوں سے بچانا ایک پر حکمت منصوبہ بندی کا تقاضہ کرتا تھا۔یہ عمل نومبر کے آغاز تک جاری رہا۔جب قافلوں میں عورتیں اور بچے سوار ہو چکتے تو چلنے کے لئے ملٹری کے احکامات کے لئے انتظار کرنا پڑتا۔پھر ملٹری ریلوے لائن کے قریب ان ٹرکوں کو رکوا کر ان کی تلاشی لینا شروع کر دیتی اور زبر دستی بعض یا تمام سواریوں کو اتار کر ان کی جگہ ان پناہ گزینوں کو بٹھانے نے کی کوشش کرتی جو اپنی رہی سہی جمع پونجی ان کی نذر کر چکے ہوتے تھے۔بعض دفعہ اس عمل میں اتنی تاخیر ہو جاتی کہ قافلے کو رات کے وقت اس غیر محفوظ مقام پر ہی رکھنا پڑتا۔ان مسائل کی وجہ سے منتظمین کو جن میں سے اکثر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے نوجوان تھے ، بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا۔قادیان سے چلنے والے یہ قافلے جس طرح بخیر و عافیت اپنی منزل کو پہنچے اس کی مثال مشرقی باب سے چلنے والے قافلوں میں کہیں نہیں ملتی۔دنیا کی آنکھوں نے تو ظاہری انتظامات کو سراہا۔لیکن ان دنوں رتن باغ میں رہنے والوں نے یہ منظر بارہا دیکھا کہ جب کسی قافلے کے پہنچنے کا انتظار ہو رہا ہوتا تو حضرت مصلح موعود ہاتھ میں قرآن شریف لے کر بے چینی سے چلتے ہوئے تلاوت کر رہے ہیں اور جب قافلے کے خیریت کے ساتھ پہنچنے کی اطلاع آئی تو آپ وہیں اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہو گئے۔آپ کی ایک صاحبزادی بیان فرماتی ہیں کہ اس وقت آپ جس جائے نماز پر نوافل ادا کرتے تھے اکثر اس کی سجدہ والی جگہ آنسوؤں سے تر ہو جاتی۔(۱۰) جب تک یہ قافلے پہنچتے رہے حضور روزانہ صدقہ دیتے رہے۔سید محمد احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ قافلے کے پہنچنے میں غیر معمولی تاریخ ہوگئی اور رات پڑ گئی۔حضور نے انہیں طلب فرمایا اور فرمایا کہ وہ جماعت کا ہوائی جہاز لے کر جائیں اور راستہ کا جائزہ لے کر دیکھیں کہ گمشدہ قافلہ کہاں ہے؟ سید محمد احمد صاحب نے عرض کی اس جہاز پر روشنی کا ایسا انتظام موجود نہیں کہ رات کو زمین پر جائزہ لیا جاسکے۔لیکن حضور کی پریشانی کے پیش نظر مولا نا عبد الرحیم صاحب درد نے کہا کہ ٹارچ سے دیکھنے کی کوشش کرو۔رات کو ایئر پورٹ پر مکمل اندھیرا تھا۔جہاز اڑانے کی کوشش کی گئی لیکن وہ اندھیرے میں ایک گائے سے ٹکرا کر بیکار ہو گیا مگر جہاز پر سوار دو افراد کی جانیں بچ گئیں۔لیکن فوراً ہی حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے حضور کی خدمت میں اطلاع بھجوائی کہ قافلہ بخیر و عافیت گورداسپور