سلسلہ احمدیہ — Page 199
199 کھانے کا انتظام جماعت کے لنگر کی طرف سے ہوتا رہا۔کچھ ماہ قبل حضور کے ارشاد کے ماتحت قادیان میں بڑے پیمانے پر خوراک کے ذخائر جمع کر لئے گئے تھے۔ان مشکل ایام میں یہ ذخائر احمدیوں کے کام آنے کے علاوہ ان پناہ گزینوں کو بھی فاقوں سے بچارہے تھے۔مہمانوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ لنگر خانے میں ان سب کے لئے روٹیاں پکا ناممکن نہ رہا۔چنانچہ انہیں کچی رسد ، آٹا اور دال کی شکل میں دی جانے لگی (۵۔۷)۔عربی کی ایک ضرب المثل ہے کہ الْفَضْلُ مَا شَهِدَتْ بِهِ الأعْدَاءُ یعنی کسی کے حق میں سب سے افضل شہادت وہ ہے جو دشمن کے منہ سے نکلے۔ان خطر ناک حالات میں احمدیوں نے بے کس مسلمانوں کی ایسی عظیم اور بے لوث خدمت کی کہ مخالفین بھی اس کا اعتراف کئے بغیر نہ رہ سکے۔زمیندار اخبار کے ایڈیٹر ، ظفر علی خان صاحب جماعت کی مخالفت میں پیش پیش رہے تھے۔لیکن جب ان حالات میں ان کے اخبار نے ضلع گورداسپور میں مسلمانوں کے پناہ گزین کیمپوں کا تجزیہ کیا تو یہ اعتراف کئے بغیر نہ رہ سکے تیسرا کیمپ قادیان میں ہے اس میں شک نہیں مرزائیوں نے مسلمانوں کی خدمت قابل شکریہ طریق پر کی لیکن اب حالات بدل رہے ہیں جوانوں کے سوا تمام مرزائیوں کو قادیان سے نکالا جا رہا ہے۔‘ (۸) کتاب کاروانِ سخت جان جسے اداره رابطه قرآن، دفتر محاسب دفاع پاکستان نے شائع کیا تھا اس کے مصنف نے قادیان کے حالات کے متعلق تحریر کیا بٹالہ کو چھوڑ کر دوسرے نمبر پر قادیان ایک بڑا قصبہ ہے۔جہاں کی آبادی اٹھارہ ہزار نفوس پر مشتمل تھی۔یہ مقام علاوہ اپنی صنعتی اور تجارتی شہرت کے جماعت احمدیہ کا مرکز ہونے کی وجہ سے مشہور ہے۔اس کے گردونواح میں تمام تر سکھوں کی آبادی ہے۔چنانچہ فسادات کے ایام میں ہیں ہیں میل دور کے مسلمان بھی قادیان شریف میں پناہ لینے کے لئے آگئے۔یہ تعداد بڑھتے بڑھتے ۷۵ ہزار نفوس تک پہنچ گئی۔چونکہ ان پناہ گزینوں کو ظالم اور سفاک سکھوں نے بالکل مفلس اور قلاش کر دیا تھا۔لہذا قادیان کے باشندگان نے ان بیچاروں کی کفالت کا بیڑا اٹھایا۔ظاہر ہے اتنی بڑی جمیعت کے کیلئے خوراک اور رہائش کا بار اٹھانا کوئی معمولی کام نہیں ہے۔اور خصوصاً ایسے ایام میں جبکہ ضروریات زندگی کی اتنی