سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 170 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 170

170 مؤقف کو پیش کیا کہ ان کو حد بندی میں خفیف ردو بدل کے لیئے ہی زیر غور لانا چاہئیے۔اصل بنیاد یہ ہونی چاہئیے کہ ایک علاقے میں اکثریت کسی گروہ کی ہے۔اگر دیگر عوامل کو ہی بنیاد بنایا گیا تو بہت سے ہندو اکثریت کے علاقے پاکستان میں شامل ہونے چاہئیں۔جیسا کہ پٹھانکوٹ کی تحصیل میں ہندو اکثریت میں ہیں مگر دریاؤں کی کیفیت کی وجہ سے اسے مغربی پنجاب میں شامل کرنا چاہئیے۔۲۵ اور ۲۶ جولائی کو مکرم شیخ بشیر احمد صاحب جماعت کا مؤقف پیش کرنے کے لئے باؤنڈری کمیشن کے سامنے پیش ہوئے اور خصوصیت کے ساتھ قادیان کے مقدس مقامات کی اہمیت کو واضح کیا۔نقشہ کے ذریعہ واضح کیا کہ قادیان اور ارد گرد کا علاقہ مسلمان اکثریت کے علاقے سے متصل ہے۔قادیان ایک عالمگیر جماعت کا مرکز ہے اور دنیا بھر سے طالب علم یہاں پر دینی علوم سیکھنے کے لئے آتے ہیں۔اس مقام سے احمدیوں کی والہانہ وابستگی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ جس بڑی تعداد میں احمدی جلسہ کے موقع پر یہاں آتے ہیں اتنا بڑا مجمع ہندستان کے کسی اور مذہبی مقام پر جمع نہیں ہوتا۔دور دور سے لوگ یہاں آکر مستقل طور پر آباد ہو جاتے ہیں۔جب کہ سکھوں کے جن مقامات کا حوالہ کانگرس کے بیان میں دیا گیا ہے ان میں آباد سکھوں کی تعداد قادیان میں موجود احمدیوں کی تعداد سے کم ہے۔مجلس احرار کانگرس کے ساتھ گہری وابستگی رکھتے تھی اور احمدیوں پر کفر کے فتوے لگانے میں پیش پیش تھی۔مسلم لیگ کے حامیوں میں پھوٹ ڈلوانے کے لئے یہ فتوے بہت مفید نسخہ تھے۔گورداسپور کے ضلعے میں مسلمانوں کی اکثریت تھی لیکن احمدیوں کو نکالنے سے یہ اکثریت اقلیت میں بھی بدل سکتی تھی۔چنانچہ اس کا روائی کے دوران مسلم لیگ کے کیس کو کمزور کرنے کے لئے یہ ہتھیار کانگرس کے نامزد حج تیجا سنگھ صاحب نے استعمال کیا اور شیخ بشیر صاحب سے سوال کیا کہ احمدیت کا اسلام سے کیا تعلق ہے؟ اس کے جواب شیخ صاحب نے صاف جواب دیا کہ احمدی ہر لحاظ سے مسلمانوں میں شامل ہوتے ہیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس نازک موڑ پر مسلم لیگ احمدیوں کو مسلم آبادی میں شامل کر رہی تھی اور اس وجہ سے ہی کم از کم گورداسپور کے بارے میں کیس مضبوط بنایا گیا تھا۔