سلسلہ احمدیہ — Page 171
171 ایک مرحلے پر کانگرس کے وکیلوں نے یہ مسئلہ اٹھا دیا کہ اگر چہ گورداسپور میں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے لیکن بالغ آبادی میں ہندوؤں کی تعداد زیادہ ہے۔چونکہ ووٹ کا حق بالغ آبادی کو ہوتا ہے اس لئے اس ضلع کا الحاق ہندوستان کے ساتھ ہونا چاہئیے۔یہ امر احمدیوں کے لئے بہت پریشان کن تھا۔حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو خیال آیا کہ اگر ۱۹۳۵ء کی مردم شماری کی رپورٹ اور ایک کیلکولیٹنگ مشین مل جائے تو یہ حساب لگایا جاسکتا ہے۔حضور کی خدمت میں یہ تجویز پیش کی گئی تو حضور نے مطلوبہ انتظام فرما دیا۔رات بھر حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے ہزاروں مرتبہ ضر ہیں اور تقسیمیں دے کر حساب تیار کر لیا اور معلوم ہوا کہ بالغ آبادی میں بھی مسلمان اکثریت میں ہیں۔اگلے روز حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے کانگرس کی دلیل کے رد میں صحیح حساب پیش کیا تو ہندو بہت گھبرائے کیونکہ وہ اپنے آپ کو حساب کا ماہر سمجھتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ مسلمانوں کو حساب نہیں آتا۔(۴۸) یہ بات قابل ذکر ہے کہ جس دن احمدیوں کے وکیل محترم شیخ بشیر احمد صاحب نے کمیشن کے رو برو دلائل پیش کرنے شروع کئے ، اسی دن قادیان کے نواح میں سکھوں کے مسلح جتھے نے حملے شروع کر دیئے۔۲۵ جولائی کی رات کو جب ٹرین بٹالہ سے قادیان آرہی تھی تو وڈالہ گرنتھیاں ریلوے سٹیشن کے قریب چھپیں تھیں سکھوں نے گاڑی روک کر اس پر حملہ کر دیا۔ڈرائیور سمیت پانچ اشخاص زخمی ہو گئے۔لیکن فائر مین نے ہوشیاری سے گاڑی چلا دی اور مزید نقصان نہیں چھ ہوا۔(۴۹) کمیشن کی کاروائی جاری رہی۔کانگرس اور مسلم لیگ نے اپنا اپنا موقف پیش کیا۔مسلم لیگ کی طرف سے حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے اور کانگرس کی جانب سے مسٹر موتی لعل ستیلو اڈ نے بحث کی مختلف وکلاء مسٹر ستیلواڈ کی اعانت کر رہے تھے جن میں بخشی ٹیک چند صاحب زیادہ نمایاں تھے۔بحث ختم ہونے کے بعد مسٹر ستیلو اڈ کو شیخ عبدالحق صاحب نے کھانے پر مدعو کیا تھا۔اس دعوت میں ستیلو اڈ صاحب کہنے لگے کہ اگر پیش کردہ دلائل پر فیصلہ ہوا تو تم لوگ بازی لے جاؤ گے (۵۰)۔باوجود تمام نا مساعد حالات کے چوہدری صاحب نے جس عمدہ طریق پر بحث کی اور مضبوط دلائل پیش فرمائے وہ اپنی مثال آپ ہے۔خواہ اپنے ہوں یا پرائے سب نے اس کو خراج