سلسلہ احمدیہ — Page 169
169 یہی رہی کہ ہندوؤں اور دیگر مذاہب کے لوگوں کو مسلمانوں پر ترجیح دی جائے۔اس ظلم کی وجہ سے مسلمان اس دوڑ میں پیچھے رہ گئے۔ایک تو پہلے یہ ظلم کیا گیا اور اب اس کو بنیاد بنا کر یہ دوسرا ظلم کیا جا رہا ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت کو اس لیئے اپنے حق سے محروم کر دو کیونکہ وہ جائیدادوں اور اموال اور تجارتوں میں دوسری اقوام سے پیچھے ہیں۔اس میمورنڈم میں اس امر کی نشاندہی بھی کی گئی کہ کانگرس اس مفروضے پر چل کر اپنا کیس پیش کر رہی ہے کہ ہر جگہ عیسائی ہندوستان کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں۔جب کہ حقیقت یہ ہے کہ گورداسپور کے عیسائی لیڈر ایس پی سنگھا نے پاکستان میں شامل ہونے کی حمایت کی ہے۔اور اس کے بعد سنٹرل کر کیچن ایسوسی ایشن نے اُن پر اظہار اعتماد بھی کیا ہے۔اس طرح اس ضلع میں پاکستان کے حامیوں کی تعداد اور بھی بڑھ جاتی ہے۔قادیان کی پوزیشن اور اس کے متعلق جماعتی مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا گیا کہ قادیان گورداسپور کے ضلع میں ہے اور اس ضلع میں مسلمان اکثریت میں ہیں۔قادیان کی تحصیل بٹالہ ہے اور اس تحصیل میں بھی مسلمان اکثریت میں ہیں۔قادیان کی ذیل، قانون گو حلقہ اور تھانہ میں بھی مسلمان اکثریت میں ہیں اور خود قادیان کی بستی میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔اور یہ سب یونٹ مغربی پنجاب سے متصل ہیں۔اور ان کی حیثیت مشرقی پنجاب کے اندر ایک کٹے ہوئے جزیرے کی نہیں ہے۔یہ نشاندہی بھی کی گئی کہ وائسرائے نے ایک پریس کا نفرنس میں ضلع گورداسپور میں مختلف مذاہب سے وابستہ آبادی کا جو تناسب بیان کیا تھا وہ پوری طرح صحیح نہیں تھا۔چونکہ کانگرس کی طرف سے سکھوں کے مقدس مقامات کا سوال بڑے زور سے پیش کیا گیا تھا ،اس لیئے جماعت احمدیہ کا بھی حق تھا کہ اپنے مقدس مقامات کا سوال اٹھائے۔پھر اس میمورنڈم میں جماعت احمدیہ کا مختصر تعارف پیش کیا گیا اور واضح کیا گیا کہ عالمگیر جماعت احمدیہ کی نظروں میں قادیان کا ایک مقدس مقام ہے۔اور جماعت احمدیہ کی ۷۴ فیصد جماعتیں مغربی پنجاب میں ہیں۔اور اگر سکھوں کا یہ حق پیش کیا جا رہا ہے کہ وہ ایک ملک میں ہوں تو ہماری جماعتوں کا بھی حق ہے کہ وہ اپنے مرکز سے وابستہ رہیں۔حکومتی اعلان میں مذکور دیگر عوامل (Other Factors) کے متعلق جماعت نے اس