سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 161 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 161

161 حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب بعض ریاستوں کی نمائندگی کرنے کے لئے لندن گئے ہوئے تھے اور قائد اعظم اور چوہدری صاحب دونوں کا خیال تھا کہ باؤنڈری کمیشن کے سامنے پیش کرنے کے لئے پنجاب مسلم لیگ اور لاہور کے وکلاء کیس تیار کر رہے ہوں گے اور چوہدری صاحب کو یہ کیس صرف پیش کرنا ہو گا۔جب کہ حقیقت یہ تھی کہ اس اہم قومی معاملے میں خوفناک غفلت برتی جارہی تھی۔نہ تو پنجاب مسلم لیگ نے اس کمیشن میں پیش ہونے کے لئے تیاری کی تھی اور نہ ہی کسی وکیل سے اس کیس کی کوئی تیاری کروائی گئی تھی۔صرف حضرت مصلح موعود کی خداداد فراست ہی صورت حال کا صحیح تجزیہ کر رہی تھی۔اور قادیان میں آنے والی آزمائش کے لئے بھر پور تیاریاں کی جارہی تھیں تفصیلی اعداد و شمار جمع ہو رہے تھے۔جماعتی دفاتر کے کارکنان، مختلف رضا کار اور تعلیم الاسلام کالج اور تعلیم الاسلام سکول کے اساتذہ دن رات مختلف جگہوں کا سفر کر کے یہ اعدادوشمار جمع کر رہے تھے۔حضور کے ساتھ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ، حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب درد، حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب اور دیگر بزرگان دن رات اس اہم ملی کام میں مصروف تھے۔حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے تعلیم الاسلام کالج کے اساتذہ اور طلباء کو اس کام پر لگا دیا تھا۔وہ سرکاری دفاتر سے اعداد و شمار جمع کر کے لاتے اور مختلف دیہات ،قصبات ،تحصیلوں اور ضلعوں کی مسلم اور غیر مسلم آبادی نوٹ کرتے۔قادیان میں کچھ راتیں ایسی بھی آئیں کہ کارکنان تمام رات جاگ کر کام کرتے رہے۔باؤنڈری کمیشن میں لازماً بہت سے اہم قانونی نکات اٹھنے تھے۔بہت سا متعلقہ قانونی لٹریچر ہندوستان میں دستیاب ہی نہیں تھا۔حضور نے اس بات کا انتظام فرمایا کہ بیرونی ممالک سے یہ لٹریچر منگوایا جائے۔اس تنازعہ میں بہت سے جغرافیائی امور پیش ہونے تھے اور پاکستان اور ہندوستان کے دفاع سے متعلقہ امور پر بحث بھی ہونی تھی۔اس کی تیاری کے لئے حضور نے انگلستان سے ایک چوٹی کے ماہر جغرافیہ دان پروفیسر آسکرسپیٹ (Oskar Spate) کو بلوایا تا کہ وہ اس کیس کی تیاری میں ماہرانہ مدد دیں۔پروفیسر سپیٹ اس وقت لندن اسکول آف اکنامکس سے وابستہ تھے۔لیکن ان کی پیشہ وارانہ زندگی کا بیشتر حصہ جنوبی ایشیا میں بسر ہوا تھا۔کیمبرج یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کرنے کے بعد وہ رنگون یونیورسٹی میں پڑھانے لگے۔یہاں پر انہیں جنوبی ایشیا میں چلنے والی آزادی کی تحریکوں میں دلچسپی پیدا ہوئی۔دوسری جنگِ عظیم شروع ہوئی تو سپیٹ