سلسلہ احمدیہ — Page 162
162 بطور رضا کار بھرتی ہوئے۔ایک جاپانی حملے میں شدید زخمی ہونے کے بعد انہیں علاج کے لیئے ہندوستان لایا گیا۔صحت یاب ہو کر انہوں نے Interservices Topographical Department میں کام شروع کیا۔اس کے بعد پہلے سری لنکا اور پھر ۱۹۴۷ء میں انگلستان چلے گئے۔بعد میں انہوں نے ایک جریدے Geographical Journal میں اس بات کا اظہار بھی کیا کہ یہ جماعت احمدیہ کی لیاقت اور ذہانت کی دلیل ہے کہ اس قسم کے تنازع میں جغرافیہ دان کی ماہرانہ مدد لینے کا خیال سوائے جماعت احمدیہ کے کسی اور کو نہیں آیا تھا۔(۴۲-۴۴) باؤنڈری کمیشن کی کاروائی شروع ہوتی ہے: بہر حال ۱۵ جولائی ۱۹۴۷ء کو حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کام ختم کر کے اپنے اندازے سے ایک دن قبل لاہور پہنچ گئے (۴۵) سٹیشن پر پنجاب مسلم لیگ کے صدر نواب افتخار حسین صاحب ممدوٹ اور دوسرے احباب استقبال کے لئے آئے ہوئے تھے۔ان کی زبانی معلوم ہوا کہ ریڈ کلف لاہور پہنچ چکے ہیں اور کل گیارہ بجے فریقین کے وکلاء کو میٹنگ کے لیے بلایا ہے۔نواب صاحب ممدوٹ نے چوہدری صاحب سے کہا کہ کل ڈھائی بجے دوپہر ان کی میٹنگ لاہور کے وکلاء سے کرائی جائے گی۔اس سے چوہدری صاحب کو مزید اطمینان ہو گیا کہ وکلاء کیس کی تیاری کر چکے ہیں۔ان کے ساتھ بیٹھ کر اب صرف یہ طے کرنا ہو گا کہ کیس کو پیش کس طرح کیا جائے۔اگلے روز منگل کا دن تھا۔ریڈ کلف کی میٹنگ وکلاء سے ہوئی اور انہیں بتایا گیا کہ جمعہ کے روز دو پہر تک فریقین کو اپنے تحریری بیانات داخل کرنے ہوں گے۔سوموار سے کمیشن وکلاء کی بحث کی سماعت شروع کرے گا۔ریڈکلف نے یہ عجیب انکشاف بھی کیا کہ وہ خود اس سماعت میں شریک نہیں ہوں گے بلکہ کمیشن کی کاروائی کی رپورٹ انہیں روزانہ بھیج دی جائے گی۔اتنے اہم مقدمہ میں صدرِ عدالت کا غیر حاضر رہنا یقیناً ایک عجیب بات تھی اور یہ امر بھی چوہدری صاحب کی پریشانی میں اضافہ کرنے کا باعث بنا۔بہر حال اب حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب پنجاب مسلم لیگ سے ہونے والی میٹنگ کا انتظار کر رہے تھے۔اللہ اللہ کر کے اس میٹنگ کا وقت ہوا۔پھر کیا ہوا۔اس کے متعلق حضرت چوہدری صاحب تحدیث نعمت میں تحریر فرماتے ہیں۔