سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 160 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 160

160 معاملات برطانوی حکومت کے سامنے پیش کرنے کے لئے ملک سے باہر جانے والے تھے۔قائد اعظم نے انہیں بلایا اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ چوہدری صاحب پنجاب کے کمیشن کے سامنے مسلم لیگ کا کیس پیش کریں۔جب انہیں بتایا گیا کہ چوہدری صاحب برطانیہ جانے والے ہیں تو قائد اعظم نے کہا کہ تمام کیس تو لاہور کے وکلاء نے تیار کر کے رکھا ہوگا ، چوہدری صاحب کو صرف بنا بنایا کیس کمیشن کے سامنے پیش کرنا ہو گا۔حضرت چوہدری صاحب نے مشورہ دیا کہ برطانیہ کے لارڈ ز آف اپیل اچھی شہرت رکھتے ہیں اس لئے انہیں غیر جانبدار امپائر کے طور پر مقرر کرنا مناسب ہوگا۔جب یہ تجویز لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے سامنے پیش کی گئی تو انہوں نے یہ بود اعذ ررکھ کر ٹال دیا کہ وہ تو بڑی عمر کے لوگ ہیں ہندوستان کا گرم موسم برداشت نہیں کر سکیں گے۔جب کمیشن کے چیئر مین کے نام پر اتفاق نہ ہو سکا تو یہ معاملہ برطانوی حکومت پر چھوڑنا پڑا۔چوہدری صاحب لندن میں تھے کہ انہیں خبر ملی کہ سیرل ریڈ کلف کو بنگال اور پنجاب ، دونوں کے کمشن کا پانچواں ممبر اور چیئر مین مقرر کیا گیا ہے۔آپ کے لیئے یہ خبر باعث تشویش تھی کیونکہ ریڈ کلف ابھی پریکٹس کر رہے تھے اور عملی سیاست میں حصہ بھی لے رہے تھے۔اس طرح ان پر کئی طرح کے اثر ڈالے جانے کا امکان تھا۔وقت نے ثابت کیا کہ یہ تشویش بے جانہیں تھی۔ایک گہری سازش کا تانا بانا بنا جا رہا تھا۔اس سازش کا خمیازہ یہ خطہ آج تک بھگت رہا ہے۔باؤنڈری کمیشن کے لئے تیاری: متحدہ پنجاب کے ۲۹ اضلاع تھے۔جن میں سے ۷ ا میں مسلمانوں کی آبادی پچاس فیصد سے زائد تھی۔۱۲ اضلاع میں ہندو اور سکھ آبادی ملا کر پچاس فیصد سے زائد تھی۔حکومت نے پندرہ اضلاع کو متنازع قرار دے دیا۔ان میں بعض مسلم اکثریت کے اضلاع بھی شامل تھے۔گورداسپور ضلع میں مسلمانوں کی آبادی پچاس فیصد سے زائد تھی۔اس کی چار میں سے تین تحصیلوں میں مسلمان اکثریت میں تھے۔صرف پٹھانکوٹ کی اکثریت ہندو تھی۔لیکن اس ضلع کو بھی متنازع اضلاع میں شامل کر دیا گیا۔چونکہ قادیان ضلع گورداسپور کی تحصیل بٹالہ میں واقع تھا۔اب یہ مسئلہ جماعتی طور پر نہایت اہم ہو چکا تھا۔