سلسلہ احمدیہ — Page 153
153 دوران بہت کارآمد ثابت ہوئے۔تقسیم پنجاب کی تجویز: ابھی نئے وائسرائے نے ہندوستان میں قدم نہیں رکھا تھا کہ ۸ مارچ ۱۹۴۷ء کو کانگریس نے ایک قرارداد پاس کی کہ گذشتہ سات ماہ میں ہونے والے فسادات کے نتیجے میں کانگرس مجبوراً اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اب پنجاب اور بنگال کی تقسیم ناگزیر ہوچکی ہے۔جبراً ایک حصے کو دوسرے حصے کے ساتھ رہنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔لہذا ان صوبوں کے جو اضلاع مسلم اکثریت کے علاقوں کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے انہیں ان صوبوں سے علیحدہ کر دینا چاہئیے۔اگر چہ مجموعی طور پر بنگال اور پنجاب میں مسلمان اکثریت میں تھے مگر مشرقی پنجاب اور مغربی بنگال کے بہت سے اضلاع میں غیر مسلموں کی اکثریت تھی۔۔اس مرحلے پر ہندوستان کی تقسیم ناگزیر نظر آ رہی تھی۔مگر جب ۲۲ مارچ ۱۹۴۷ء کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن دہلی پہنچے تو ان کو برطانوی حکوت کی طرف سے یہی ہدایت دی گئی تھی کہ ان کی حکومت کی پہلی ترجیح یہی ہے کہ ہندوستان کی تقسیم نہ ہو اور انگریز اپنے پیچھے ایک متحدہ ہندوستان چھوڑ کر جائیں۔نئے وائسرائے نے سیاسی لیڈروں سے انفرادی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا۔حالات کا رخ دیکھتے ہوئے جلد ہی نہرو اور پٹیل جیسے لیڈروں نے عندیہ ظاہر کر دیا کہ وہ مسئلہ حل کرنے کے لئے ہندوستان کی تقسیم پر تیار ہیں۔گاندھی جی نے شروع میں اس کی مخالفت کی مگر وہ بھی جلد متفق ہو گئے کہ ان حالات میں ملک کی تقسیم ناگزیر ہوچکی ہے۔قائد اعظم سے ملاقات میں وائسرائے نے اس بات کا اظہار واضح الفاظ میں کر دیا کہ ملک کی تقسیم ہوئی تو پنجاب اور بنگال کے صوبوں کو بھی تقسیم کیا جائے گا اور ہندو اکثریت کے اضلاع پاکستان میں شامل نہیں کئے جائیں گے۔کانگرس کے صدر نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان اس شرط پر بن سکتا ہے مگر ملک کا جو حصہ پاکستان میں شامل نہیں ہونا چاہتا اسے زبردستی پاکستان میں شامل نہ کیا جائے۔(۲۱ تا۲۹) یہ سوال جماعت احمدیہ کے لئے اک خاص اہمیت رکھتا تھا کیونکہ ہندوستان کی اکثر جماعتیں صوبہ پنجاب میں شامل تھیں۔جماعت احمدیہ کا مؤقف یہ تھا کہ پنجاب ہر لحاظ سے ایک یونٹ ہے،اس لئے جس طرح