سلسلہ احمدیہ — Page 154
154 ہندوستان کی تقسیم کے وقت دیگر صوبوں کو تقسیم نہیں کیا جار ہا اسی طرح پنجاب کو بھی تقسیم نہیں کیا جانا چاہئیے۔چنانچہ حضور کی طرف سے وائسرائے کو مندرجہ ذیل تار دی گئی۔آل انڈیا ریڈیو میں آج رات ( یعنی مورخہ ۱۵ اپریل سے قبل کی رات ) اعلان ہوا ہے۔کہ پنجاب کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔میں اور میری جماعت تقسیم پنجاب کی تجویز کے خلاف پر زور احتجاج کرتے ہیں۔اور خصوصاً اس تجویز کے خلاف کہ وسطی پنجاب کو مغربی پنجاب سے علیحدہ کر دیا جائے۔ہم مسلمان پنجاب کے وسطی حصوں میں کامل اکثریت رکھتے ہیں۔اور ہمیں ایسے ہی انسانی حقوق حاصل ہیں۔جو دنیا کے کسی حصے میں کسی بھی قوم کو حاصل ہو سکتے ہیں۔یقیناً ہمارے ساتھ ان تجارتی اموال کا سا سلوک نہیں ہونا چاہیئے جو فروخت کے لئے منڈیوں میں بھجوائے جاتے ہیں۔(۳۴) لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ نظر آرہا تھا کہ حکومت پنجاب اور بنگال کی تقسیم کا پختہ ارادہ کئے ہوئے ہے۔اور کانگرس کی طرف سے یہ مطالبہ بھی کیا جارہا تھا کہ تقسیم کرتے ہوئے صرف یہ نہ دیکھا جائے ان اضلاع کی اکثریت کس طرف جانا چاہتی ہے بلکہ ان اضلاع کو بھی ہندوستان میں شامل کیا جائے جہاں کی آبادی کی اکثریت تو مسلمان ہے مگر زرعی زمینوں، جائدادوں اور صنعتوں کا بیشتر حصہ ہندوؤں اور سکھوں کی ملکیت میں ہے۔جماعت کا موقف یہ تھا کہ یہ فیصلہ اس بنیاد پر ہونا چاہئیے کہ متنازع علاقے کی اکثریت تقسیم ہند کے بعد کس ملک میں شامل ہونا چاہتی ہے۔اور یہ فیصلہ اس بنیاد پر نہ کیا جائے کہ کسی ضلع کے مالدار لوگوں کا رحجان کس ملک کی طرف ہے۔ہندو اور مسلمانوں کے درمیان صلح کی خواہش: اس صورتِ حال میں جبکہ ہر طرف نفرت کی آندھیاں چل رہی تھیں حضرت مصلح موعود مسلسل اس خواہش کا اظہار فرما رہے تھے کہ ہندؤں اور مسلمانوں کے درمیان صلح کی کوئی صورت نکلے اور سب معاملات باہمی مفاہمت سے طے ہوں۔۳ اپریل کو اپنی ایک رؤیا بیان فرما کر حضور نے ارشاد فرمایا بہر حال ابھی ایسا وقت نہیں آیا کہ صلح کے امکانات ہی نہیں رہے۔ہمیں اس طرف سے توجہ