سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 152 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 152

152 رخصت ہونے سے قبل لارڈ ویول نے کابینہ کی آخری میٹنگ بلائی۔زیر غور امور کے بعد انہوں نے وزراء کو مخاطب کر کے کہا میں نے ایک مشکل دور میں وائسرائے کا عہدہ سنبھالا تھا۔میں نے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔ایسے حالات پیدا ہو گئے جس کے نتیجے میں مجھے استعفیٰ دینا پڑا۔اس مسئلے پر استعفیٰ دینے کا فیصلہ صحیح تھا یا غلط اس کا فیصلہ تاریخ کرے گی۔بہر حال میری آپ لوگوں سے اپیل ہے کہ جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہ کریں۔آپ لوگوں سے مجھے جو تعاون ملا ، اس کے لئے میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔“ پیشتر اس کے کہ جواب میں کوئی کچھ کہتا۔انہوں نے اپنے کاغذات اٹھائے اور تیزی سے باہر نکل گئے۔اگلے روز لارڈ ویول ہمیشہ کے لئے دہلی سے رخصت ہو گئے۔(۲۲،۲۱) مارچ ۱۹۴۷ء میں پنجاب بھی ہندو مسلم فسادات کی زد میں آگیا۔۴ مارچ کو لاہور سے ان فسادات کی ابتدء ہوئی اور جلد ہی امرت سر راولپنڈی ، ملتان اور گوجرانوالہ بھی اس آگ کی لپیٹ میں آگئے۔یہ خونریزی صرف شہروں تک محدود نہیں تھی۔بہت سے دیہات میں بھی فسادات شروع ہو گئے۔بہت سے مقامات پر فوج کو بلوائیوں پر گولی چلانی پڑی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی اس وقت سندھ میں تشریف فرما تھے۔اِن دنوں میں قادیان بیرونی علاقوں سے بالکل کٹ گیا تھا۔نہ ریل کی آمد ورفت باقی رہی تھی اور نہ ڈاک ٹیلیفوں یا تار سے کہیں رابطہ کیا جا سکتا تھا۔اُس وقت قادیان میں احمدیوں کی بھاری اکثریت تھی۔یہاں پر امن و آشتی کی فضا قائم رکھنے کے لئے ایک امن کمیٹی بنا دی گئی جس میں ہندو سکھ اور غیر احمدی مسلمان بھی شامل تھے۔اس کمیٹی کے قیام سے کم از کم وقتی طور پر قادیان اور اس کے نواح پر اچھا اثر پڑا۔(۳۰ تا ۳۳) اس وقت امریکی حکومت ایسے چھوٹے جہاز فروخت کر رہی تھی جو دوسری جنگِ عظیم میں استعمال ہوئے تھے۔بمبئی کی ایک کمپنی نے ان میں سے کچھ جہاز خریدے اور ایک احمدی پائلٹ لطیف صاحب کو ان جہازوں کو بمبئی لانے پر مقرر کیا۔وہ ایک جہاز حضور کی خدمت میں دکھانے کی غرض سے لے کر آئے۔اور حضور کے ارشاد پر یہ جہاز پانچ ہزار روپے میں خرید لیا گیا۔اور اسے والٹن ایئر پورٹ لاہور کے فلائنگ کلب میں رکھوا دیا گیا۔ممکن ہے اس وقت بہت سے احباب کو جہاز خریدنے کی اہمیت صحیح طرح سمجھ نہ آئی ہو مگر آنے والے وقت نے ثابت کیا کہ ان جہازوں کو خریدنا ایک بروقت اقدام تھا۔بعد میں یہ جہاز فسادات کے